Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی میں معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے متعدد شعبہ جات کی خود مختاری ختم کرنے کا فیصلہ

زکریا یونیورسٹی نے شدید معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے اہم انتظامی فیصلے کرتے ہوئے متعدد تعلیمی شعبہ جات کی خودمختاری ختم کر کے انہیں دیگر شعبوں کے ساتھ منسلک (اٹیچ) کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

یہ فیصلے یونیورسٹی کے بورڈ آف فیکلٹی کے ایک اہم اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وائس چانسلر نے کی اجلاس میں یونیورسٹی کی مالی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تجاویز زیر غور آئیں، جن میں کم طالبا والے یا وسائل کے فقدان کا شکار شعبہ جات کو دیگر مضبوط ڈیپارٹمنٹس کے زیر انتظام چلانے کی سفارشات شامل تھیں۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان اسٹڈیز ڈیپارٹمنٹ کو اب شعبہ پولیٹیکل سائنس کے ساتھ منسلک کر دیا جائے گا،اسی طرح جغرافیہ (جیو گرافی) ڈیپارٹمنٹ کو شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنز کے زیر انتظام کر دیا گیا ہے، جبکہ لائبریری سائنس ڈیپارٹمنٹ کو شعبہ ماس کمیونیکیشن کی نگرانی میں چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید برآں سوشیالوجی، جینڈر اسٹڈیز اور کرمنالوجی کو انسٹیٹیوٹ آف سوشل سائنسز اینڈ کلچرل کے زیر اہتمام کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ بدستور خودمختار حیثیت میں اپنے امور سرانجام دیتا رہے گا، جبکہ فلسفہ (فلاسفی) ڈیپارٹمنٹ کو پوٹیکیکل سائنسز کے زیر انتظام کر دیا گیا ہےپاکستان اسٹڈیز کے معاملے پر اجلاس میں تفصیلی اور سنجیدہ گفتگو بھی ہوئی۔

اجلاس میں شریک بعض اراکین کا مؤقف تھا کہ پاکستان اسٹڈیز کو کسی دوسرے شعبے کے زیر انتظام کرنا ایک قومی نوعیت کا معاملہ بن سکتا ہے، کیونکہ یہ محض ایک مضمون نہیں بلکہ ملک کی شناخت اور نظریاتی بنیاد سے جڑا ہوا شعبہ ہے، جس کے لیے الگ اور مخصوص نصاب تیار کیا گیا ہے۔

شرکاء نے سفارش کی کہ پاکستان اسٹڈیز کو خودمختار حیثیت میں ہی چلایا جائے، تاہم ذرائع کے مطابق وائس چانسلر نے ان تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان اسٹڈیز کو پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ان فیصلوں کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، کیونکہ متعلقہ تعلیمی شعبہ جات سے متعلق ایسی تجاویز کو بورڈ آف اسٹڈیز کے پلیٹ فارم پر زیر بحث آنا چاہیے تھا، تاہم قواعد و ضوابط کے برعکس انہیں براہِ راست بورڈ آف فیکلٹی کے اجلاس میں پیش اور منظور کیا گیا اب یہ معاملہ منظوری کے لیے اکیڈمک کونسل میں جائے گا، جبکہ شعبہ جات کی حتمی تنظیمِ نو، انضمام یا خودمختاری ختم کرنے کا اختیار یونیورسٹی سینیٹ کے پاس ہے، جو اس حوالے سے آخری فیصلہ کرے گی۔

تعلیمی حلقوں میں ان فیصلوں پر مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں، جہاں ایک طرف انتظامیہ انہیں مالی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے، وہیں دوسری جانب اساتذہ اور ماہرین تعلیم تعلیمی خودمختاری اور قومی اہمیت کے حامل مضامین کے مستقبل پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں۔

اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے نومنتخب صدر ڈاکٹر بنیامین کا کہنا ہے یہ فیصلے باہمی مشاورت سے ہوا تمام سٹاک ہولڈرز ان فیصلوں پر رضامندی ظاہر کی ہے، سابق باڈی کی تجاویز جن پر اساتذہ کو تحفظات تھے ان کو دور کردیا گیا ، کرمنالوجی جو پہلے ماس کمیونیکشن کو دی جارہی تھی اب روک دی گئی ہے اس طرح پبلک ہیلتھ کا شعبہ بھی الگ سے کام کرے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button