“جنوبی پنجاب میں نقصان دہ کیڑوں کے تدارک” کے عنوان سے ایک اہم مشاورتی سیشن

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں ڈیپارٹمنٹ آف اینٹومالوجی کے زیر اہتمام ریجنل ایگریکلچر فورم، جنوبی پنجاب کے تحت“جنوبی پنجاب میں نقصان دہ کیڑوں کے تدارک” کے عنوان سے ایک اہم مشاورتی سیشن کا انعقاد کیا، جس میں ریجن سے تمام جامعات، ریسرچ ونگ اور انڈسٹری کے شعبہ اینٹومولوجی سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی۔
اس مشترکہ اجلاس کا مقصد حشراتِ مضر کے حوالے سے درپیش چیلنجز کا جائزہ لینا اور خطے میں مؤثر تدارک کے لیے قابلِ عمل حکمتِ عملیاں تشکیل دینا تھا۔
سیشن کے آغاز میں شعبہ حشرات کے چیئرمین ڈاکٹر مرزا عبدالقیوم نے تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا، انہوں نے سیشن کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے جنوبی پنجاب کی بڑی فصلوں کو درپیش حشراتِ مضر کے مسائل کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔
مزید براں کسانوں کے لیے پائیدار اور سائنسی بنیادوں پر مبنی حل تیار کرنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔آن لائن خطاب ڈاکٹر نعیم ستار (ایسوسی ایٹ پروفیسر، کنگ فیصل یونیورسٹی) نے پیش کیا۔ ان کا لیکچر حشراتِ مضر کی پیشگوئی کے ماڈلز اور ان کے ذریعے حملوں کی پیشگی نشاندہی اور مؤثر فیصلہ سازی میں ان کے کردار پر مبنی تھا۔ ان کی گفتگو نے اس مشاورتی اجلاس کو سائنسی طور پر نہایت تقویت بخشی۔
اس مشاورتی سیشن میں برین سٹارمنگ اور گروہی مباحثے شامل تھے، جن میں تمام شرکاء کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا، ہر گروپ میں تعلیمی اداروں، صنعت اور تحقیقی تنظیموں کے نمائندگان شامل تھے تاکہ مختلف زاویوں سے جامع اور عملی سفارشات سامنے آسکیں۔ شرکاء نے اہم مسائل پر غور و فکر کیا اور مشترکہ طور پر قابلِ عمل تجاویز مرتب کیں۔
تمام اسٹیک ہولڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ اہم حشراتِ مضر کے معاشی حدِ آفت کو ازسرِ نو مرتب کیا جائے اور اس میں فصلوں کے مخصوص مراحل کو زیادہ اہمیت دی جائے تاکہ بروقت اور درست کارروائی ممکن ہو سکے۔ فصلوں کی زوننگ کو بہتر انتظام اور زیادہ پیداوار کے لیے ضروری قرار دیا گیا۔
ماہرین نے بہتر پیشگوئی اور فعال فیصلہ سازی کے لیے حشرات کی پیشگوئی کے ماڈلز کی تیاری کی اہمیت اُجاگر کی۔ ڈرون کے ذریعے زرعی زہروں کا چھڑکاؤ بڑھانے کی سفارش بھی کی گئی تاکہ عین نشانہ بندی کے ذریعے کیمیائی استعمال کو مؤثر بنایا جا سکے۔
فروٹ فلائی کے تدارک کے لیے کیمیائی زہروں کے بجائے فیرو مون ٹریپس استعمال کرنے کی تجویز دی گئی، گروپس نے مقامی حیاتیاتی حشرات کش کی شناخت اور بڑے پیمانے پر پیداوار کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ زرعی زہروں کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے انسیکٹی سائیڈ ریزسٹنس ورکنگ گروپس کے قیام کو ضروری قرار دیا گیا۔
اس کے علاوہ، تعلیمی اداروں، صنعت اور تحقیقاتی تنظیموں کے درمیان سرحدی اور بین الادارہ جاتی تعاون کو فروغ دینے کی بھی سفارش کی گئی تاکہ مشترکہ اور مربوط اقدامات ممکن ہو سکیں۔
آخر میں جنوبی پنجاب میں تمام کیڑوں کے تدارکی پروگراموں کی بنیاد کے طور پر مربوط زرعی تدارک کو اپنانے کی سفارش کی گئی، سیشن کے اختتام پر تمام شرکاء نے ایسی تقریبات کو باقاعدگی سے منعقد کروانے کا اعادہ کیا۔




















