پنجاب بھر کے سرکاری سکول نان سیلری بجٹ کی عدم فراہمی کے باعث شدید مالی بحران سے دو چار

تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق نان سیلری بجٹ جاری نہ ہونے کے باعث اسکول سربراہان کو روزمرہ انتظامی امور چلانے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بجلی کے بلز، پانی، صفائی، مرمت اور دیگر لازمی اخراجات کی ادائیگی ممکن نہیں رہی، جبکہ بیشتر اسکولوں کے اکاؤنٹس میں فنڈز منتقل ہی نہیں کیے جا رہے۔
سکول سربراہان کا کہنا ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی نے انہیں شدید مالی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دسمبر 2026 میں نان سیلری بجٹ کے تحت اسکولوں کو دوسری سہ ماہی کی قسط جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم ایک ماہ گزرنے کے باوجود اکتوبر، نومبر اور دسمبر 2026 کے فنڈز تاحال اسکولوں کو موصول نہیں ہو سکے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب بھر کے سرکاری اسکولوں کے لیے نان سیلری بجٹ کی مد میں مجموعی طور پر 4 ارب 8 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، لیکن فنڈز کی عدم منتقلی کے باعث خاص طور پر لاہور کے سرکاری اسکولوں میں انتظامی اور مالی مسائل سنگین صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔
سکول سربراہان نے صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نان سیلری بجٹ فوری طور پر جاری کیا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے اور طلبہ کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔




















