اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً | تحریر : کنول ناصر

ہم میں سے اکثر لوگوں کا سوال یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو جتنا انعام ملتا ہے یا دنیا جتنی کشادہ ہوتی ہے ہماری نہیں ہوتی یا دوسرے جتنی مرضی برائی کر لیں یا کسی کو تکلیف دے دیں تو انہیں کچھ نہیں ہوتا لیکن ہم مصیبت اٹھاتے ہیں. ایسی صورت میں اکثر لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے لیے دنیا اسان ہے وہ خوش نصیب لوگ ہیں لیکن ہم بد نصیب ہیں لہذا اس بات پر اللہ سے بھی اکثر لوگ شکوہ کنا ہوتے ہیں لہذا اس تحریر کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کہ عام لوگوں کے ذہنوں میں موجود ان گتھیوں کو سلجھایا جائے.
اگر ہم قران کی آیات پر تھوڑا سا غور کریں تو ہمارے ذہن کی سب الجھنیں سلجھ جائیں. اب اتے ہیں اس مسئلے کی طرف تو سورۃ الواقعہ میں اللہ تعالی نے قیامت اور روز حشر کا نقشہ کھینچنے کے بعد کل انسانوں کو اَزۡوَاجًا ثَلٰثَۃً یعنی تین اقسام میں کچھ اس طرح تقسیم کیا ہے؛
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ (1)
جب واقع ہونے والی واقع ہو گی۔
لَيْسَ لِوَقْعَتِـهَا كَاذِبَةٌ (2)
جس کے واقع ہونے میں کچھ بھی جھوٹ نہیں۔
خَافِضَةٌ رَّافِعَةٌ (3)
پست کرنے والی اور بلند کرنے والی۔
اِذَا رُجَّتِ الْاَرْضُ رَجًّا (4)
جب کہ زمین بڑے زور سے ہلائی جائے گی۔
وَبُسَّتِ الْجِبَالُ بَسًّا (5)
اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر چورا ہو جائیں گے۔
فَكَانَتْ هَبَآءً مُّنْـبَثًّا (6)
سو وہ غبار ہو کر اڑتے پھریں گے۔
وَكُنْـتُـمْ اَزْوَاجًا ثَلَاثَةً (7)
اور (اس وقت) تمہاری تین جماعتیں ہو جائیں گی۔
فَاَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ مَآ اَصْحَابُ الْمَيْمَنَةِ (8)
پھر داہنے والے کیا خوب ہی ہیں داہنے والے۔
وَاَصْحَابُ الْمَشْاَمَةِ مَآ اَصْحَابُ الْمَشْاَمَةِ (9)
اور بائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے۔
وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ (10)
اور سب سے اول ایمان لانے والے سب سے اول داخل ہونے والے ہیں۔
اُولٰٓئِكَ الْمُقَرَّبُوْنَ (11)
وہ اللہ کے ساتھ خاص قرب رکھنے والے ہیں۔
فِىْ جَنَّاتِ النَّعِـيْمِ (12)
نعمت کے باغات ہوں گے۔
ثُلَّـةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (13)
پہلوں میں سے بہت سے۔
وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (14)
اور پچھلوں میں سے تھوڑے سے۔
عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَـةٍ (15)
تختوں پر جو جڑاؤ ہوں گے۔
مُّتَّكِئِيْنَ عَلَيْـهَا مُتَقَابِلِيْنَ (16)
آمنے سامنے تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔
يَطُوْفُ عَلَيْـهِـمْ وِلْـدَانٌ مُّخَلَّـدُوْنَ (17)
ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے آمد و رفت کیا کریں گے۔
بِاَكْوَابٍ وَّاَبَارِيْقَ وَكَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍ (18)
آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب لے کر جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا۔
لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْـهَا وَلَا يُنْزِفُـوْنَ (19)
نہ اس سے ان کو دردِ سر ہوگا اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا۔
وَفَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّـرُوْنَ (20)
اور میوے جنہیں وہ پسند کریں گے۔
وَلَحْمِ طَيْـرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَ (21)
اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا۔
وَحُوْرٌ عِيْنٌ (22)
اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں۔
كَاَمْثَالِ اللُّـؤْلُـؤِ الْمَكْـنُـوْنِ (23)
جیسے موتی کئی تہوں میں رکھے ہوئے ہوں۔
جَزَآءً بِمَا كَانُـوْا يَعْمَلُوْنَ (24)
بدلے اس کے جو وہ کیا کرتے تھے۔
لَا يَسْـمَعُوْنَ فِيْـهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِـيْمًا (25)
وہ وہاں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے۔
اِلَّا قِيْلًا سَلَامًا سَلَامًا (26)
مگر سلام سلام کہنا۔
وَاَصْحَابُ الْيَمِيْنِ مَآ اَصْحَابُ الْيَمِيْنِ (27)
اور داہنے والے کیسے اچھے ہوں گے داہنے والے۔
فِى سِدْرٍ مَّخْضُودٍ (28)
وہ بے کانٹوں کی بیریوں میں ہوں گے۔
وَطَلْـحٍ مَّنْضُوْدٍ (29)
اور گتھے ہوئے کیلوں میں۔
وَظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ (30)
اور لمبے سایوں میں۔
وَمَـآءٍ مَّسْكُـوْبٍ (31)
اور پانی کی آبشاروں میں۔
وَفَاكِهَـةٍ كَثِيْـرَةٍ (32)
اور با افراط میووں میں۔
لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّّلَا مَمْنُـوْعَةٍ (33)
جو نہ کبھی منقطع ہوں گے اور نہ ان میں روک ٹوک ہوگی۔
وَفُـرُشٍ مَّرْفُـوْعَةٍ (34)
اور اونچے فرشوں میں۔
اِنَّـآ اَنْـشَاْنَاهُنَّ اِنْـشَآءً (35)
بے شک ہم نے انہیں (حوروں کو) ایک عجیب انداز سے پیدا کیا ہے۔
فَجَعَلْنَاهُنَّ اَبْكَارًا (36)
پس ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے۔
عُرُبًا اَتْـرَابًا (37)
دل لبھانے والی ہم عمر بنایا ہے۔
لِّاَصْحَابِ الْيَمِيْنِ (38)
داہنے والوں کے لیے۔
ثُلَّـةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ (39)
بہت سے پہلوں میں سے ہوں گے۔
وَثُلَّـةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (40)
اور بہت سے پچھلوں میں سے۔
وَاَصْحَابُ الشِّمَالِ مَآ اَصْحَابُ الشِّمَالِ (41)
اور بائیں والے کیسے برے ہیں بائیں والے۔
فِىْ سَمُـوْمٍ وَّحَـمِـيْمٍ (42)
وہ لووں (آگ) اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے۔
وَظِلٍّ مِّنْ يَّحْمُوْمٍ (43)
اور سیاہ دھوئیں کے سائے میں۔
لَّا بَارِدٍ وَّلَا كَرِيْـمٍ (44)
جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ راحت بخش۔
اِنَّـهُـمْ كَانُـوْا قَبْلَ ذٰلِكَ مُتْـرَفِيْنَ (45)
بے شک وہ اس سے پہلے خوش حال تھے۔
وَكَانُـوْا يُصِرُّوْنَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيْـمِ (46)
اور بڑے گناہ (شرک) پر اصرار کیا کرتے تھے۔
وَكَانُـوْا يَقُوْلُوْنَ اَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ (47)
اور کہا کرتے تھے کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جائیں گے۔
اَوَاٰبَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ (48)
اور کیا ہمارے اگلے باپ دادا بھی۔
قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ (49)
کہہ دو بے شک پہلے بھی اور پچھلے بھی۔
لَمَجْمُوْعُوْنَ اِلٰى مِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ (50)
ایک معین تاریخ کے وقت پر جمع کیے جائیں گے۔
ثُـمَّ اِنَّكُمْ اَ يُّهَا الضَّآلُّوْنَ الْمُكَذِّبُوْنَ (51)
پھر بے شک تمہیں اے گمراہو جھٹلانے والو۔
لَاٰكِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ (52)
البتہ تھوہر کا درخت کھانا ہوگا۔
فَمَالِئُوْنَ مِنْـهَا الْبُطُوْنَ (53)
پھر اس سے پیٹ بھرنے ہوں گے۔
فَشَارِبُوْنَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَـمِـيْمِ (54)
پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا۔
فَشَارِبُوْنَ شُرْبَ الْهِـيْمِ (55)
پھر پینا ہوگا پیاسے اونٹوں کا سا پینا۔
هٰذَا نُزُلُـهُـمْ يَوْمَ الدِّيْنِ (56)
قیامت کے دن یہ ان کی مہمانی ہو گی۔
یہاں سبقت والوں سے مراد اولیاء، انبیاء، صالحین، شہدا اور وہ لوگ ہیں جو اللہ کی فرمانبرداری میں سبقت لے جانے والے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ بغیر حساب کتاب کے جنت کو پانے والے ہیں اور یہ ہمیں پتہ ہے کہ ان سبقت والوں کا تناسب گزرے اور زمانوں میں زیادہ ہوتا تھا اور اج کل کے دور میں اب اٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں.
اب دوسرا دائیں ہاتھ والوں سے مراد ہم جیسے گناہ گار لوگ ہیں جو اللہ تعالی سے مغفرت مانگتے ہیں لیکن شیاطین انسانوں اور جنوں کے بہکاوے میں ا کر نافرمانی والے کام کر بیٹھتے ہیں لیکن اللہ کے سرکش اور نافرمان نہیں ہیں. لہذا جب ہم جیسے لوگ اللہ سے مغفرت مانگتے ہیں تو وہ ہمارے گناہوں خطاؤں اور اکل حرام سے ہمیں پاک کرنے کے لیے بیماریوں مصائب اور ذلت کی تکلیف سے گزارتا ہے اور جب ہم ان دنیاوی تکالیف سے گزر کر گناہوں خطاؤں سے پاک ہو جاتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ نیکیوں کا وزن گناہوں سے زیادہ ہو جاتا ہے تو وہ ہمیں اپنے پاس بلا لیتا ہے.
سورۃ الواقعہ کی ایات نمبر 39 اور 40 کے مطابق یہ داہنے ہاتھ والے لوگ پچھلے لوگوں میں سے بہت زیادہ ہیں اور ہم میں سے بھی بہت زیادہ ہیں. یہی وجہ ہے کہ اپنے قرب و جوار میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت یا تو کسی بیماری مصیبت میں مبتلا ہے یا سخت والدین شوہر سسرال تکلیف دینے والی اولاد وغیرہ کی سختی میں مبتلا ہے. اس حقیقت کو ایک طرف تو سورۃ البقر میں کچھ یوں بیان کیا گیا ہےوَلَوْلَا دَفْعُ اللّـٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُـمْ بِبَعْضٍ لَّفَسَدَتِ الْاَرْضُ وَلٰكِنَّ اللّـٰهَ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْعَالَمِيْنَ (251) اور اگر اللہ کا بعض کو بعض کے ذریعے سے دفع کرا دینا نہ ہوتا تو زمین فساد سے پُر ہو جاتی، لیکن اللہ جہان والوں پر بہت مہربان ہے۔
یہاں اللہ تعالی نے واضح کیا ہے کہ یہ اس کی بہت بڑی مہربانی ہے کہ ہم میں سے ایک کو دوسرے پر مسلط کر کے ہمیں صبر کر کے اپنے درجات بلند کرنے اور گناہوں سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا ہے اسی حقیقت کو سورۃ الانعام میں اللہ تعالی نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے؛
وَكَذٰلِكَ فَـتَنَّا بَعْضَهُـمْ بِبَعْضٍ لِّيَقُوْلُوْا اَهٰٓؤُلَآءِ مَنَّ اللّـٰهُ عَلَيْـهِـمْ مِّنْ بَيْنِنَا ۗ اَلَيْسَ اللّـٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشَّاكِـرِيْنَ (53) اور اسی طرح ہم نے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمایا ہے تاکہ یہ لوگ کہیں کہ کیا یہی ہیں ہم میں سے جن پر اللہ نے فضل کیا ہے، کیا اللہ شکر گزاروں کو جاننے والا نہیں ہے۔
مومن کی ان دنیاوی تکالیف کی وضاحت بہت سی احادیث اور اقوال ائمہ سے بھی ہوتی ہے مثلاً امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا؛
1۔ نہ ایسا تھا نہ ہے نہ ہوگا کہ مومن کا کوئی ستانے والا نہ ہو اگر سمندر کے جزائر میں سے کسی جزیرے میں بھی مومن ہوگا تو اللہ اس کے پاس کسی ایسے کو پہنچا دے گا جو اس کو ستائے.
2۔ کوئی زمانہ بھی ہو ماضی حال یا مستقبل ضرور مومن کے لیے کوئی ایسا شخص ہوگا موجود ہوگا جو اس سے ستائے
3۔ قیامت تک ہر زمانے میں ایسا ہوگا کہ مومن کے لیے اس کا پڑوسی ستانے والا ہوگا.
(اصول کافی جلد 4 صفحہ 186)
یعنی کہ دنیاوی ابتلا و مصائب انسان کے درجات بلند کرنے کے لیے اور اسے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے ہوتے ہیں جیسا کہ اس حدیث سے بھی واضح ہے؛
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ , وَيَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ , قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ:” الْأَنْبِيَاءُ , ثُمَّ الْأَمْثَلُ فَالْأَمْثَلُ , يُبْتَلَى الْعَبْدُ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ , فَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ صُلْبًا اشْتَدَّ بَلَاؤُهُ , وَإِنْ كَانَ فِي دِينِهِ رِقَّةٌ ابْتُلِيَ عَلَى حَسَبِ دِينِهِ , فَمَا يَبْرَحُ الْبَلَاءُ بِالْعَبْدِ حَتَّى يَتْرُكَهُ يَمْشِي عَلَى الْأَرْضِ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ خَطِيئَةٍ”.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں سب سے زیادہ مصیبت اور آزمائش کا شکار کون ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء، پھر جو ان کے بعد مرتبہ میں ہیں، پھر جو ان کے بعد ہیں، بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت اور پختہ ہے تو آزمائش بھی سخت ہو گی، اور اگر دین میں نرم اور ڈھیلا ہے تو مصیبت بھی اسی انداز سے نرم ہو گی، مصیبتوں سے بندے کے گناہوں کا کفارہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ بندہ روے زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4023]
اسی طرح امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے:
إنَّ اللهَ تباركَ وتعالى إذا كانَ مِن أمرِهِ أن يُكرِمَ عَبدا وله عِندَه ذَنبٌ ابتَلاهُ بالسُّقمِ ، فإن لَم يَفعَل فبِالحاجةِ ، فإن لَم يَفعَل شَدَّدَ علَيه عندَ المَوتِ ۔ وإذا كانَ مِن أمرِهِ أن يُهينَ عَبدا ولَه عندَهُ حَسَنةٌ أصَحَّ بَدنَهُ ، فإن لم يفعل وسَّعَ علَيهِ في مَعيشتِهِ ، فإن لَم يَفعل هَوّنَ علَيهِ المَوتَ
اعلام الدين : ۴۳۳
جب خداوندکریم اپنے کسی بندے کو شرف عطاکرنا چاہتا ہے ،جبکہ بندہ گناہگار بھی ہوتاہے،تو اللہ تعالیٰ اسے بیماری میں مبتلا کردیتاہے۔اگر بیماری سے اس کا کفارہ نہ ہو تو اسے دوسروں کا محتاج بنادیتاہے۔اگر پھر بھی کفارہ نہ ہوتو اس پر موت کوسخت کردیتاہے۔اِس طرح اس کا کفارہ ادا ہو جاتا ہے اور بندہ خدا کے شرف سے مشرف ہوجاتاہے۔اِسی طرح کِسی بندہ کو اپنے شرف سے محروم کرنا چاہتا ہے، جبکہ اس کی کچھ نیکیاں بھی ہوتی ہیں،تو اسے بدن کی صحت وسلامتی عطا کردیتاہے اس طرح سے وہ شرف سے محروم نہیں ہوسکتاتو پھر اس کی معیشت کوآسان کردیتاہے۔اگر پھر بھی وہ بندہ شرف سے محروم نہیں ہوتاتو پھر اس پر موت آسان کردیتاہے۔اِس طرح وہ بندہ خدا کے شرف سے محروم ہوکر آخرت میں قدم رکھتاہے۔
امام علیؑ فرماتے ہیں:ما عاقَبَ اللهُ عَبدا مؤمنا في هذهِ الدُّنيا إلاّ كانَ اللهُ أحلَمَ وأمْجَدَ وأجوَدَ وأكرَمَ مِن أن يَعودَ في عِقابِهِ يومَ القيامةِ
بحارالانوار : ۸۱ / ۱۷۹ / ۲۵
جب خداوندعالم کسی مومن بندے کو اس دنیا مں سزادے دیتا ہے تو پھر اس کے حلم،بزرگواری،کرم نوازی اور شانِ کریمی سے یہ بات بعید ہے کہ وہ اسے دوبارہ قیامت میں بھی سزادے۔
اور رہا یہ معاملہ کہ فاسقوں فاجروں اور نافرمانوں اور کفار پر عافیت اور رزق کی فراوانی کیوں ہوتی ہے تو یہ اللہ تعالی کی طرف سے انکے لئے ڈھیل ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا۔
(بیشک دنیا مومن کے لئے جیل خانہ اور کافر کے لئے جنت ہے) تو انہیں یہ اچھی اشیاء دنیاوی زندگی میں جلد دیدی جاتی ہیں اور قیامت کے دن وہ اپنے اعمال کی سزا پائیں گے۔
فرمان باری تعالی ہے۔
"اور جس دن جہنم کے سرے پر لائے جائیں گے (کہا جائے گا) تم نے اپنی نیکیاں دنیا کی زندگی میں ہی برباد کردیں اور ان سے فائدے اٹھاچکے پس آج تمہیں ذلت کے عذاب کی سزا دی جائے گی اسکے باعث کہ تم زمین میں ناحق تکبر کیا کرتے تھے اور اسکے باعث بھی کہ تم حکم عدولی کیا کرتے تھے”
تو حاصل یہ ہے کہ یہ دنیا کافروں کے لئے ہے اس میں انہیں ڈھیل دی جارہی ہے اور جب وہ اس دنیا جسمیں انہیں نعمتیں ملتی رہیں سے آخرت میں منتقل ہونگے تو عذاب پائيں گے اور اس سے اللہ کی پناہ تو یہ عذاب ان پر بہت سخت ہوگا کیونکہ وہ عذاب میں سزا اور عقوبت پائیں گے اور اس لئے بھی کہ انکی دنیا بھی ختم ہوگئ جس میں وہ نعمتیں اور خوشیاں حاصل کرتے تھے۔
سورۃ الواقعہ میں ایت نمبر 41 تا 56 میں جن بائیں ہاتھ والے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے سرکش اور نافرمان ہیں. اگے ان بائیں ہاتھ والوں کی بھی دو اقسام کا قران پاک میں صراحت کے ساتھ ذکر موجود ہے جن میں سے پہلے وہ لوگ جو صریحاً کافر ہیں اور دوسرے منافق. کافروں اور مشرکوں کے بارے میں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کیونکہ ان کی سرکشی اور نافرمانی ہمارے سامنے ہوتی ہے لیکن جن سے ہوشیار رہنے کی قران پاک کی سورۃ البقر اور سورۃ المنافقون سمیت کئی صورتوں میں تاکید کی گئی ہے اور نشانیاں بتائی گئی ہیں وہ ہیں گروہ منافقین. اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو بظاہر تو مسلمانوں کے ساتھ ہوتے ہیں اور یہاں تک کہ پیدائشی مسلمان بھی ہوتے ہیں لیکن ان کے دل میں نفاق ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی نے سورۃ ناس میں شیاطین جنوں کے ساتھ ساتھ ان شیطان کے ساتھی انسانوں سے بھی اللہ کی پناہ مانگنے کی کچھ اس طرح تاکید کی ہے؛
قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ (1)
کہہ دو میں لوگوں کے رب کی پناہ میں آیا۔
مَلِكِ النَّاسِ (2)
لوگوں کے بادشاہ کی۔
اِلٰـهِ النَّاسِ (3)
لوگوں کے معبود کی۔
مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (4)
اس شیطان کے شر سے جو وسوسہ ڈال کر چھپ جاتا ہے۔
اَلَّـذِىْ يُوَسْوِسُ فِىْ صُدُوْرِ النَّاسِ (5)
جو لوگوں کے سینوں میں وسوسہ ڈالتا ہے۔
مِنَ الْجِنَّـةِ وَالنَّاسِ (6)
جنوں اور انسانوں میں سے۔
ہم میں سے اکثر کا خیال ہوتا ہے کہ انسان کی خواہش نفس کے ذریعے شیطان اس پر حملہ کرتا ہے اور اس کے دل میں وسوسے پیدا کرتا ہے مثلا روزی کمانے والے افراد کے دل میں شیطان یہ خیال ڈالتا ہے کہ حرام حلال کی پرواہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں پیسہ ہوگا تو ساری خوشیاں اور نعمتیں خریدی جا سکتی ہیں جبکہ اللہ تعالی نے تاکید کی ہے کہ يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِى الْاَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًاۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ اِنَّهٝ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (البقرۃ 168)”اے لوگو! ان چیزوں میں سے کھاؤ جو زمین میں حلال پاکیزہ ہیں، اور شیطان کے قدموں کی پیروی نہ کرو، بے شک وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔”
اسی طرح بعض اوقات ہمارے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ پردہ اور ڈھکا چھپا لباس عورت کی ترقی میں بہت بڑی رکاوٹ ہے لہذا اگے بڑھنے کے لیے اس دکیہ نوسی لباس کو مختصر کر دینا چاہیے تاکہ لوگ متاثر ہو کے بہترین روزگار اور مواقع دیں جبکہ اللہ تعالی نے سورۃ الاعراف میں ادم اور حوا کا قصہ سنانے کے بعد انسان کو تنبیہ کی ہے کہ يَا بَنِىٓ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُّوَارِىْ سَوْاٰتِكُمْ وَرِيْشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوٰى ذٰلِكَ خَيْـرٌ ۚ ذٰلِكَ مِنْ اٰيَاتِ اللّـٰهِ لَعَلَّهُـمْ يَذَّكَّرُوْنَ (26) "اے آدم کی اولاد ہم نے تم پر پوشاک اتاری جو تمہاری شرم گاہیں ڈھانکتی ہے اور آرائش کے کپڑے بھی اتارے، اور پرہیزگاری کا لباس وہ سب سے بہتر ہے، یہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔”يَا بَنِىٓ اٰدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَآ اَخْرَجَ اَبَوَيْكُمْ مِّنَ الْجَنَّـةِ يَنْزِعُ عَنْـهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُـرِيَـهُمَا سَوْاٰتِـهِمَا ۗ اِنَّهٝ يَرَاكُمْ هُوَ وَقَبِيْلُـهٝ مِنْ حَيْثُ لَا تَـرَوْنَـهُـمْ ۗ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّيَاطِيْنَ اَوْلِيَآءَ لِلَّـذِيْنَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ (27) "اے آدم کی اولاد تمہیں شیطان نہ بہکائے جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ کو بہشت سے نکال دیا ان سے ان کے کپڑے اتروائے تاکہ تمہیں ان کی شرمگاہیں دکھائے، وہ اور اس کی قوم تمہیں دیکھتی ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھتے، ہم نے شیطانوں کو ان لوگوں کا دوست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔”
سورۃ الاعراف کی ایت نمبر 27 میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسان کو بہکانے والے صرف وہ جنات ہی نہیں ہے جو اس کے ذہن میں بہکاوے ڈالتے ہیں بلکہ اللہ تعالی نے شیاطین کو ان لوگوں کا دوست بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے یعنی کہ شیطان کے ساتھی جنوں کے علاوہ انسان بھی ہوتے ہیں جو کہ دوسرے انسانوں کو بہکاتے ہیں اور راہ حق سے بھٹکاتے ہیں ان میں منافقین مشرکین اور کفار شامل ہیں
ہم میں سے ہر کسی کا روز مرہ کا تجربہ ہوتا ہے کہ خاندان میں سے اور دوستوں میں سے کچھ لوگ دنیاوی اسائشوں کے لیے اللہ کے احکام کو نظر انداز کرنے کی یہ کہہ کر تلقین کرتے ہیں کہ اخرت کس نے دیکھی ہے جب جائیں گے تو دیکھا جائے گا یا اللہ معاف کرنے والا ہے لہذا اس طرح کے لوگوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ لوگ بظاہر تو مسلمان ہیں لیکن ان کے دلوں میں نفاق ہے جیسا کہ اللہ تعالی نے سورۃ الحجرات میں کچھ اس طرح واضح کیا ہے کہ ہر مسلمان مومن نہیں ہوتا؛
:قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕقُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ۔۔۔ (الحجرات:۱۴)
قرآن مجید: ان بادیہ نشینوں نے کہاکہ ہم ایمان لے آئے ان سے کہہ دیں کہ تم ابھی ایمان لائے ہی نہیں بلکہ یوں کہوکہ ہم اسلام لائے ہیں جبکہ ایمان توابھی تمہارے دلوں میں داخل ہوا ہی نہیں۔
۵۸۳۔الإمامُ الباقرُ ع: الإيمانُ إقرارٌ و عملٌ ، والإسلامُ إقرارٌ بلا عملٍ. (تحف العقول : ۲۹۷)
۵۸۳۔امام محمد باقر ع:ایمان اقرار اور عمل کا نام ہے جبکہ اسلام عمل کے بغیر (صرف)اقرار کا نام ہے ۔
۵۸۴۔الإمامُ الصّادقُ ع: إنّ الإيمانَ ما وَقَرَ في القلوبِ ، والإسلامَ ما علَيهِ المَناكِحُ والمَوارِيثُ وحَقْنُ الدِّماءِ . (الكافي : ۲ / ۲۶ / ۳ )
۵۸۴۔امام جعفرصادق ع:ایمان وہ ہے جو دل میں جاگزیں ہو جبکہ اسلام وہ ہے جس پر نکاحوں اور میراث کا دارومدار ہوتا ہے اور خون محفوظ ہوتے ہیں۔
اس ایت اور اس کی وضاحت کرتی ہوئی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ کلمہ پڑھنے سے انسان مسلمان ہو جاتا ہے لیکن مومن بننے کے لیے ازمائش کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے لہذا منافقین وہ لوگ ہوتے ہیں جو کلمہ گو مسلمان تو ہوتے ہیں لیکن ازمائش کو برداشت نہیں کرسکتے. یہ وہی. لوگ ہیں جن کی نشان دہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ یوں کی ہے وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ. وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ. مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ-لَا تَعْلَمُهُمْؕ-نَحْنُ نَعْلَمُهُمْؕ-سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍ(التوبہ101) اور تمہارے آس پاس دیہاتیوں میں سے کچھ منافق ہیں اور کچھ مدینہ والے (بھی )وہ منافقت پر اڑگئے ہیں ۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم انہیں جانتے ہیں ۔ عنقریب ہم انہیں دو مرتبہ عذاب دیں گے پھر انہیں بڑے عذاب کی طرف پھیرا جائے گا۔قران پاک میں اللہ تعالی نے بتایا کہ’’وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ‘‘ (محمد:۳۰) اور ضرور تم انہیں گفتگو کے انداز میں پہچان لو گے۔ (جمل، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳ / ۳۰۴، ملخصاً)
کلبی اور سدی نے کہا کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جمعہ کے دن خطبے کے لئے قیام کرکے نام بنام فرمایا: نکل اے فلاں ! تو منافق ہے ،نکل۔ اے فلاں ! تو منافق ہے، تو مسجد سے چند لوگوں کو رسوا کرکے نکالا۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو اس کے بعد منافقین کے حال کا علم عطا فرمایا گیا۔ (خازن، التوبۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۲ / ۲۷۶)
المختصر کفار مشرکین اور منافقین ہی بائیں ہاتھ والے اللہ کے سرکش اور نافرمان لوگ ہوتے ہیں جو اہل ایمان کو کبھی ون ورڈ ارڈر کے ذریعے مرتد کرنے کی سازشیں اور میڈیا کے ذریعے کوششیں کرتے ہیں تو کبھی علماء دانشوروں اور عام مسلمانوں میں منافقین کی حیثیت سے انتشار اور دین سے دوری کا باعث بنتے ہیں. یہی وہ لوگ ہیں جن کی وجہ سے دائیں ہاتھ والے گناہ اور نافرمانی کر بیٹھتے ہیں اور اپنے گناہوں کا وبال دنیا میں ہی بیماری معذوری مصیبت ذلت اور تنگی کی صورت میں بھگتتے ہیں اگر گناہ کی دعوت دینے والے یہ شیطان کے ساتھی نہ ہوتے تو سب اہل جنت دنیا میں بھی سکون سے رہتے ہیں نا گناہ اور نافرمانی کرتے اور نہ ہی دنیا کی تکلیف اٹھاتے.
لیکن اللہ تعالی نے جہاں سورۃ الناس میں ان شیطان کے ساتھی انسانوں اور جنوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کی ہدایت کی ہے وہاں ان سے بچنے کے لیے طریقہ بھی بتایا ہے کہ وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا(الاسراء 45)اور اے حبیب! جب تم نے قرآن پڑھا تو ہم نے تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک چھپا ہوا پردہ کردیا۔
روایات کے مطابق یہ ایت تب نازل ہوئی تھی جب ابو لہب کی بیوی پتھر اٹھا کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سر کچلنے ائی تھی اور اپ اسے نظر نہیں آئے. لیکن یہ حکم عام ہے کہ اللہ کی کتاب پڑھنے والوں اور اس پر صدق دل سے ایمان لانے والوں اور اخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے درمیان ایک واضح پردہ اور لکیر اللہ تعالی حائل کر دیتے ہیں. جس کی وجہ سے شیطان کے ساتھی اس انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتے.
واضح رہے کہ اخرت پر یقین نہ ہونا ہی نفاق کی وجہ ہے جب انسان کو پختہ یقین نہیں ہوتا کہ ہم نے ایک دن اللہ کے سامنے کھڑے ہونا ہے اور اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ دھڑلے سے بے پردگی، بے حیائی، زنا، شراب نوشی، دوسروں کو نقصان پہنچانا الغرض ہر منفی عمل کر جاتا ہے. یعنی دنیا میں صرف اپنی نفسانی خواہشات پر چلنے والا حیوان بن کر رہتا ہے خواہ وہ پیدائشی مسلمان ہی کیوں نہ ہو.
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم جیسے عام مسلمان اپنے درمیان موجود منافقین کو کس طرح پہچانیں اس کا جواب اس حدیث میں کچھ اس طرح ملتا ہے؛
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَبُو الرَّبِيعِ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ أَبُو سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:” آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ، إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ”.
ہم سے سلیمان ابوالربیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن جعفر نے، ان سے نافع بن مالک بن ابی عامر ابوسہیل نے، وہ اپنے باپ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، منافق کی علامتیں تین ہیں۔ جب بات کرے جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے اس کے خلاف کرے اور جب اس کو امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإيمان/حدیث: 33]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اس حدیث کے مطابق اگر کوئی شخص خواہ بہت بڑا دانشور ہو بہت بڑی پوسٹ پر ہو بظاہر عالم ہو زاہد ہو لیکن اس میں یہ تین برائیاں ہوں یعنی جھوٹ خیانت اور وعدہ خلافی تو وہ منافق ہے خواہ وہ تہجد گزار ہی کیوں نہ ہو.
ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ دائیں ہاتھ والے بہت سے لوگ جن کے متعلق سورۃ واقعہ میں بتایا گیا ہے کہ وہ پہلے وقتوں میں بھی بہت سے تھے اور ہم میں بھی کثیر تعداد میں موجود ہیں بھی اکثر اوقات فسق و فجور اور اکل حرام میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ بسا اوقات کم علمی کی بنا پر ضعیف الاعتقادی کا بھی شکار ہوتے ہیں. یعنی اپنے مصائب و آلام کو من جانب من اللہ سمجھنے کی بجائے جادو تعویز اور نظر بد وغیرہ کی وجہ سے مخلوق کی جانب منسوب کرتے ہیں. لیکن ان کی نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ گناہ اور نافرمانی کی زندگی میں شدید تکلیف میں مبتلا ہوتے ہیں. یا تو وہ زندگی بھر بیماری، معزوری، دکھ تکلیف دوسروں کے برے رویے یا کوئی ایسی محرومی برداشت کرتے رہتے ہیں جس پر وہ صبر کر کے اپنے گناہوں سے پاک ہوتے رہتے ہیں اور یا پھر موت سے قبل طویل بیماری یا مصیبت میں مبتلا ہوتے ہیں اور اخر میں قبل از موت انہیں اپنی غلطیوں اور گناہوں کا احساس بھی ہو جاتا ہے لہذا دائیں ہاتھ والے جب دنیاوی مصائب و الام کے ذریعے گناہوں سے پاک کر دیے جاتے ہیں تو یہ کہہ کے ان کی روح نکالی جاتی ہے؛
يَآ اَيَّتُـهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّـةُ (27)
(ارشاد ہوگا) اے اطمینان والی روح۔
اِرْجِعِىٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (28)
اپنے رب کی طرف لوٹ چل، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔
فَادْخُلِىْ فِىْ عِبَادِيْ (29)
پس میرے بندوں میں شامل ہو۔
وَادْخُلِىْ جَنَّتِيْ (30)
اور میری جنت میں داخل ہو۔
ان کے برعکس بائیں ہاتھ والوں کی علامت یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں وہ گناہ اور زیادتی کر کے بھی خوش رہ رہے ہوتے ہیں اور اللہ کی طرف سے ان پر کوئی مصیبت نہیں آتی. اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو خود یہ کہہ کر ڈھیل دی ہوئی ہے كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ(المرسلات 46) (اے کافرو!) تم (بھی دنیا میں ) کچھ دن کھالو اورفائدہ اٹھا لو ، بیشک تم مجرم ہو۔” یہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو دائیں ہاتھ والے کمزور لوگوں کو طنز کا نشانہ بنا کر ان کو اللہ کی نافرمانی اور برائیوں کی طرف مائل کرتے ہیں لیکن سبقت والوں پر ان کا کوئی بس نہیں چلتا کیونکہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے متعلق اللہ تعالی نے قران مجید میں فرمایا کہ إِنَّ عِبادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطانٌ إِلاّ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْغاوِینَ(الحجر 42)۔(کہ) تو میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں کرسکے گا مگر وہ گمراہ جو تیری پیروی کریں گے.”
ان بائیں ہاتھ والوں یہ طرز عمل کی سورۃ المطففین میں اللہ تعالی نے تصویر کشی کچھ اس طرح کی ہے؛
اِنَّ الَّـذِيْنَ اَجْرَمُوْا كَانُـوْا مِنَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا يَضْحَكُـوْنَ (29)
بے شک نافرمان (دنیا میں) ایمان داروں سے ہنسی کیا کرتے تھے۔
وَاِذَا مَرُّوْا بِـهِـمْ يَتَغَامَزُوْنَ (30)
اور جب ان (مسلمانوں) کے پاس سے گزرتے تو آپس میں آنکھ سے اشارے کرتے تھے۔
وَاِذَا انْقَلَبُـوٓا اِلٰٓى اَهْلِهِـمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِيْنَ (31)
اور جب اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر جاتے تو ہنستے ہوئے جاتے تھے۔
وَاِذَا رَاَوْهُـمْ قَالُوٓا اِنَّ هٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّوْنَ (32)
اور جب ان (مسلمانوں) کو دیکھتے تو کہتے بے شک یہی گمراہ ہیں۔
وَمَآ اُرْسِلُوْا عَلَيْـهِـمْ حَافِظِيْنَ (33)
حالانکہ وہ ان پر نگہبان بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔”
اخر میں اللہ تعالی نے مومنین کو تسلی دی ہے کہ ان کا یہ طرز عمل صرف دنیا ہی میں ان کے لئے امتحان کا باعث ہے؛
فَالْيَوْمَ الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُـوْنَ (34)
پس آج (قیامت کے دن) وہ لوگ جو ایمان لائے کفار سے ہنس رہے ہوں گے۔
عَلَى الْاَرَآئِكِ يَنْظُرُوْنَ (35)
تختوں پر بیٹھے دیکھ رہے ہوں گے۔
هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُـوْا يَفْعَلُوْنَ (36)
آیا (واقعی) کافروں کو بدلہ دیا گیا ہے ان اعمال کا جو وہ کیا کرتے تھے۔
قران و حدیث کی روشنی میں اس طویل بحث سے قارین کے ذہن میں یہ نکات واضح ہو جانے چاہئیں کہ
1۔ کل بنی نو انسان تین اقسام کے لوگوں پر مشتمل ہے یعنی نیکی میں سبقت لے جانے والے دائیں ہاتھ والے اور بائیں ہاتھ والے.
2۔ اگر ہم گناہ کرنے کے بعد فورا ہی دنیا میں مصائب و الام کی صورت میں سزا پا لیتے ہیں تو ہم بد نصیب نہیں بلکہ خوش نصیب ہیں کیونکہ ہمیں باری تعالی نے جنت خلد کی نعمتیں عطا فرمانی ہیں اس لیے دنیا کی عارضی زندگی میں ہی گناہوں سے پاک کرنے کا اہتمام کر دیا ہے اصل بد نصیب وہ ہیں جن کے لیے گناہ اور غلطیاں کرنے کے باوجود دنیا کی یہ عارضی زندگی جنت بنا دی گئی ہے تاکہ قبر میں اور اخرت میں ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب کے سوا کچھ نہ ہو.
3۔ انسان پر جو بھی مصائب اتے ہیں وہ اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ٘-وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَؕ. (النساء 79)اے سننے والے تجھے جو بھلائی پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو برائی پہنچے وہ تیری اپنی طرف سے ہے.” مخلوق کی طرف سے جادو تعویذ اور نظر بد وغیرہ صرف اس کے نصیب کے مصائب اس تک پہنچانے کا وسیلہ بنتے ہیں۔
لہذا مخلوق کو اپنے مصائب کا ذمہ دار ٹھہرانا اپنی خطاؤں سے نظریں چرانے کا دور حاضر کا ایک عام حربہ ہے. اگر اپ اللہ اور اس کہ رسول سے محبت کے دعویدار ہیں اور مغفرت کے طالب ہیں اور ساتھ ہی دنیا میں بھی سکون چاہتے ہیں تو واحد طریقہ یہی ہے کہ اس کے فرمانبردار اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے والے بن کر رہیں اور اس کی نافرمانی سے بچیں خواہ شیطان کے ساتھی جن و انس دنیا داری اور گناہ کی جتنی مرضی رغبت دلائیں.
4۔کہانیوں اور میڈیا میں ہمیں ہمیشہ یہ دکھایا جاتا ہے کہ پرفیکٹ لائف ممکن ہے اور اخر کار انسان کو یہ حاصل ہو جاتی ہے اور یہ کہ پیسہ تمام مسائل کا حل ہے. جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اہل ایمان نے اس دنیا کو انسان کے لیے اس کے قلیل قیام کے باعث مسافر خانے اور امتحان گاہ سے تشبیہ دی ہے. جس میں سکون اور اطمینان سے ٹھہرنا ممکن ہی نہیں خواہ انسان کچھ بھی کر لے اسے اس دنیا میں مکمل زندگی نہیں مل سکتی. کسی کے پاس پیسہ ہے تو صحت یا اولاد نہیں کسی کے پاس اولاد ہے تو وسائل کی کمی ہے غرض اللہ کے ایک نظام کے تحت ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی کمی ایسی ہوتی ہے جو ہمیں اس کا فقیر بنائی رکھتی ہے. یہی وجہ تھی کہ انبیاء اور ان کے تابعین اولیاء صالحین وغیرہ دنیا کی زندگی میں فقر پر راضی رہے حالانکہ اگر وہ چاہتے تو دنیا کی تمام نعمتیں ان کے قدموں کی خاک تھی. لیکن وہ جانتے تھے کہ دنیا کی عارضی زندگی کی راحتوں کو اگر منتخب کیا تو سخت حساب کتاب اور اخرت کی سختی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے لیے یہ دعا فرمائی "اے اللہ ،مجھے مسکین زندہ رکھنا ،مسکینی کی حالت میں موت عطا فرما اور مسکینوں کی جماعت کے ہمراہ حشر میں زندہ فرما‘‘( سنن الترمذی)
دور حاضر کی زندگی کو اگر دیکھیں تو ہماری حالت اس کے برعکس ہے ہم دنیا کی زندگی کا سکون چاہتے ہیں یہاں تک کہ علماء کرام کے پیج بھی رزق کی فراوانی کے وظائف سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں ہماری حالت ایسی ہو گئی ہے جس کی تصویر کشی اللہ تعالی نے سورۃ التکاثر میں کچھ یوں کی ہے؛
بِسْمِ اللّـٰهِ الرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْـمِ
اَ لْـهَـاكُمُ التَّكَاثُرُ (1)
تمہیں حرص نے غافل کر دیا۔
حَتّـٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ (2)
یہاں تک کہ قبریں جا دیکھیں۔
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (3)
ایسا نہیں، آئندہ تم جان لو گے۔
ثُـمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ (4)
پھر ایسا نہیں چاہیے، آئندہ تم جان لو گے۔
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْيَقِيْنِ (5)
ایسا نہیں چاہیے، کاش تم یقینی طور پر جانتے۔
لَتَـرَوُنَّ الْجَحِـيْمَ (6)
البتہ تم ضرور دوزخ کو دیکھو گے۔
ثُـمَّ لَتَـرَوُنَّـهَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ (7)
پھر تم اسے ضرور بالکل یقینی طور پر دیکھو گے۔
ثُـمَّ لَتُسْاَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِـيْمِ (8)
پھر اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا.
لہذا وہ دن انے سے پہلے کہ جب ہم سے نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ امتحان گاہ اور مسافر خانہ کوئی عیش کرنے کی جگہ نہیں ہے یہاں جو بھی زبردستی عیش اور نعمتیں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اسے اس کی کوئی نہ کوئی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے بائیں ہاتھ والے اللہ تعالی سے یہ سودا کرتے ہیں کہ؛ فَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ(البقرۃ 200) اور کوئی آدمی یوں کہتا ہے کہ اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں دیدے اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ۔” جبکہ دائیں ہاتھ والے لوگوں کا ہم اپنے ارد گرد مشاہدہ کر سکتے ہیں کہ وہ طویل بیماری معذوری اولاد کے دکھ محرومی وغیرہ کی صورت میں اس مال کی کثرت کی قیمت ادا کر رہے ہوتے ہیں.
اس کی مثال اس طرح سمجھ لیں کہ انسان ایک مسافر ہے اور یہ دنیا اس کا وقتی پڑاؤ اب ان مسافروں میں تین قسم کے انسان شامل ہوتے ہیں ایک وہ جو انتہائی ضرورت کا سامان نقد ہی خرید لیتے ہیں انہیں اس مسافر خانے سے جانے کے لیے کوئی دقت نہیں ہوتی دوسرے وہ جو اپنی حیثیت سے زیادہ سامان ادھار پر لے لیتے ہیں لہذا انہیں اس پڑاؤ سے اگے جانے کے لیے اس ادھار کو شدید مشقت اور تکلیف میں پڑ کر اتارنا ہوتا ہے اور تیسرے وہ جو ادھار لے کر بہترین سامان سے فائدہ تو اٹھا لیتے ہیں لیکن ادھار کی واپسی کے قائل نہیں ہوتے نہ ہی اپنے اپ کو کسی قانون کی گرفت میں سمجھتے ہیں ان کے لیے سزا اور قید مقرر ہے.
لہذا اپنی سوچ کی اصلاح کریں اور خوش نصیبی اور بد نصیبی کا معیار دنیاوی اسائشات اور دولت کو نہیں بلکہ وقت اخر اور انجام بنائیں اور ہمیشہ اللہ تعالی سے بائیں ہاتھ والے والوں کے شر سے بچنے کی دعا کریں.
4۔ بائیں ہاتھ والے یعنی کہ اخرت پہ یقین نہ رکھنے والے ہمارے قریبی لوگ یہاں تک کہ والدین بھی ہو سکتے ہیں اس صورت میں سورۃ الممتحنہ میں اللہ تعالی نے کچھ اس طرح حضرت ابراہیم کی سیرت مبارکہ سے سبق لینے کی تلقین کی ہے جن کی قوم کے لوگ یہاں تک کہ والد تک بت پرست تھے جب کہ وہ اللہ کے سچے نبی تھے؛
قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ وَالَّـذِيْنَ مَعَهٝ ۚ اِذْ قَالُوْا لِقَوْمِهِـمْ اِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّهِۖ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَآءُ اَبَدًا حَتّـٰى تُؤْمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَحْدَهٝٓ اِلَّا قَوْلَ اِبْـرَاهِيْـمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَآ اَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللّـٰهِ مِنْ شَىْءٍ ۖ بے شک تمہارے لیے ابراہیم میں اچھا نمونہ ہے اوران لوگوں میں جو اس کے ہمراہ تھے، جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا بے شک ہم تم سے بیزار ہیں اور ان سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، ہم نے تمہارا انکار کر دیا اور ہمارے اور تمہارے درمیان دشمنی اور بیر ہمیشہ کے لیے ظاہر ہوگیا یہاں تک کہ تم ایک اللہ پر ایمان لاؤ مگر ابراھیم کا اپنے باپ سے کہنا کہ میں تمہارے لیے معافی مانگوں گا اور میں اللہ کی طرف سے تمہارے لیے کسی بات کا مالک بھی نہیں ہوں.”
پھر اسی اور اس سے اگلی ایت میں ان الفاظ میں ان لوگوں کے شر سے بچنے کے لیے کچھ اس طرح دعا کی تلقین کی گئی ہے؛ رَّبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَاِلَيْكَ اَنَبْنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ (4) اے ہمارے رب ہم نے تجھ ہی پر بھروسہ کیا اور تیری ہی طرف ہم رجوع ہوئے اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے۔
رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِّلَّـذِيْنَ كَفَرُوْا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِـيْمُ (5) اے ہمارے رب! ہمیں ان کا تختہ مشق نہ بنا جو کافر ہیں اور اے ہمارے رب ہمیں معاف کر، بے شک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔” امین یا رب العالمین.



















