ڈیزل کی قیمت میں کمی کا فائدہ ریلوے میں سفر کرنے والوں مسافروں کو نہ ہوسکا

نئے سال کے موقع پر پٹرولیم قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا گیا جس میں ڈیزل کی قیمت 265روپے سے کم ہوکر 257روپے ہوگئی لیکن ریلوے حکام کی جانب سے ریلوے کرائے کم نہیں کئے گئے۔
پاکستان ریلوے نے گزشتہ سال 5فروری کو ریلوے کے کرائے بڑھائے تھے، اس کے بعد ڈیزل کی قیمت میں کئی بار کمی ہوئی لیکن ریلوے حکام کی جانب سے ریلوے کے کرایوں میں کمی نہیں کی گئی ہے۔
اس سے قبل اگست 2023میں دس فیصد ‘ستمبر میں پانچ فیصد اور فروری میں 2فیصد کرایوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ستمبر 2023میں ڈیزل کی قیمت 313روپے تھی۔ لیکن اس کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کئی بار کمی ہوئی اور اس وقت ڈیزل کی قیمت 257روپے فی لٹر ہے۔ اب تک ڈیزل کی قیمت میں 56روپے فی لٹر کمی ہوچکی ہے لیکن ریلوے کی جانب سے کرایوں میں کمی نہ کرکے مسافروں کو کوئی ریلیف نہ دیا گیا۔
جس کی وجہ سے مسافر بھی پریشان ہیں اور مسافروں کو کہنا ہے کہ جیسے ہی پٹرولیم قیمتیں بڑھتی ہیں تو کرائے فوراً بڑھادیئے جاتے ہیں لیکن اب 56 روپے کمی ہوچکی ہے کوئی کمی نہیں کی گئی۔
مسافروں نے وزیراعظم شہباز شریف ‘وزیر ریلوے حنیف عباسی سے مطالبہ کیا ہے کہ ریلوے جوکہ غریب کی سواری ہے اس کے کرایوں میں 20سے 25فیصد تک کمی کی جائے تاکہ مسافروں کو ریلیف مل سکے اور پٹرولیم قیمتوں میں کمی کا خاطر خواہ فائدہ ہو۔



















