Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

نواز شریف زرعی یونیورسٹی : چوتھے کانووکیشن میں 68 میڈلز اور پی ایچ ڈی کے 25 سکالرز کو ڈگری تفویض

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں چوتھے سالانہ کانووکیشن کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں انڈرگریجویٹ، پوسٹ گریجویٹ اور پی ایچ ڈی پروگرامز مکمل کرنے والے طلبہ و طالبات کو اسناد اور میڈلز سے نوازا گیا۔

تقریب کے دوران مجموعی طور پر 20 گولڈ میڈلز اور 35 سلور میڈلز تقسیم کیے گئے، جن میں پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے 13 میڈلز شامل تھے۔

اس کے علاوہ مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے 25 پی ایچ ڈی اسکالرز کو ان کی تحقیقی خدمات کے اعتراف میں ڈگریاں عطا کی گئیں، ان تحقیقی موضوعات میں فصلوں کی پیداوار، کلائمیٹ سمارٹ ایگریکلچر، فوڈ سیکیورٹی، تحفظِ نباتات اور ایگریکلچرل ویلیو چین ڈویلپمنٹ شامل تھے۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سید علی قاسم گیلانی جو گورنر پنجاب کی نمائندگی کررہے تھے نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم قوموں کی تعمیرِ نو کی بنیاد ہے اور نوجوان نسل کو جدید تحقیق، سائنسی سوچ اور اخلاقی اقدار کے امتزاج کے ساتھ پاکستان کی ترقی میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ زرعی تعلیم قومی معیشت کے استحکام اور غذائی خودکفالت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے اور محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان تحقیق اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں بہترین خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ڈگریاں حاصل کرنے والے طلبہ اپنی تعلیم اور تحقیق کو ملکی ترقی کے لیے بروئے کار لائیں گے۔

چیئرمین امور کشمیر کمیٹی رانا قاسم نون نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈگریاں حاصل کرنے والے تمام طلبہ و طالبات، ان کے والدین اور اساتذہ کو مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی کا قیام جنوبی پنجاب کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں اور یہ ادارہ خطے کی زرعی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

اس سے قبل تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ کانووکیشن طلبہ کی محنت، استقامت اور طویل علمی سفر کی کامیاب تکمیل کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی ملتان معیاری تعلیم، تحقیق اور اختراع کے فروغ کے لیے ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہے تاکہ ایسے گریجویٹس تیار کیے جا سکیں جو ملکی غذائی تحفظ، ماحولیاتی پائیداری اور دیہی خوشحالی میں مؤثر کردار ادا کریں۔

وائس چانسلر نے کہا کہ یونیورسٹی کے سب سے اہم اسٹیک ہولڈر خود طلبہ ہیں اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد وہ اپنی زندگی کے ایک نئے باب کا آغاز کر رہے ہیں، جہاں انہیں اپنی سمت اور شناخت خود متعین کرنی ہے۔
انہوں نے گریجویٹس پر زور دیا کہ وہ اپنی المنائی ایسوسی ایشنز قائم کریں اور یونیورسٹی سے مضبوط اور مستقل تعلق برقرار رکھتے ہوئے ادارے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایسے روابط تعلیمی نیٹ ورک کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ عملی تجربات اور مواقع کے تبادلے کا ذریعہ بھی بنیں گے۔مستقبل کے امکانات پر گفتگو کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ آج کے زرعی گریجویٹس کا بنیادی ہدف پاکستان کے کسانوں کی منافع بخشی میں اضافہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جدید کاروباری ماڈلز، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر سروس ڈلیوری سسٹمز کے ذریعے زراعت کو ایک پائیدار اور منافع بخش شعبہ بنایا جا سکتا ہے۔ اگر زرعی خدمات فراہم کرنے والے ادارے اور لینڈ کلسٹرز تعلیم یافتہ نوجوانوں کی قیادت میں منظم کیے جائیں تو یہ ماڈل کسانوں کی آمدن میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایگریکلچرل انٹرپرینیورشپ کے فروغ کا باعث بنے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button