Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

پی ایس ای آر سروے کرنے والے اساتذہ مشکلات کا شکار ہوگئے

پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری سروے کے تحت فیلڈ میں کام کرنے والے اساتذہ کرام شدید انتظامی بد انتظامی، مالی نقصان اور عوامی بدسلوکی کا شکار ہیں۔

شہری بلاکوں میں عوام کی بڑی تعداد ڈیٹا فراہم کرنے سے انکاری ہے، جس کے باعث سروے کا عمل شدید مشکلات سے دوچار ہو چکا ہے۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ شدید سردی میں انہیں گھنٹوں گھروں کے باہر کھڑے ہو کر منت سماجت کرنا پڑتی ہے، جبکہ کئی مقامات پر شہری بیٹھک یا گھروں کے اندر بیٹھ کر سروے فارم مکمل کرنے کی اجازت تک نہیں دیتے، جس کے باعث اساتذہ کو گلیوں اور سڑکوں پر بیٹھ کر سروے مکمل کرنا پڑتا ہے، جو نہ صرف تذلیل آمیز ہے بلکہ ان کی عزتِ نفس کو بھی مجروح کر رہا ہے۔

اساتذہ کے مطابق حکومت کی جانب سے انومیریٹرز کو ہر حال میں ڈیٹا مکمل کرنے کا پابند بنایا جا رہا ہے، چاہے عوام تعاون کریں یا نہ کریں، اساتذہ کو 30 سے 40 کلومیٹر دور بلاکس الاٹ کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے روزانہ طویل سفر کرنا پڑ رہا ہے۔

عوامی عدم تعاون کے باعث نہ تو ڈیٹا مکمل ہو پا رہا ہے اور نہ ہی اساتذہ کی حاضری لگائی جا رہی ہے، تاہم اس کے باوجود اساتذہ اپنی جیب سے روزانہ 700 سے 800 روپے فیول اور تقریباً 300 روپے دوپہر کے کھانے پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں، جس سے ایک انومیریٹر کا یومیہ خرچ 1000 سے 1200 روپے تک پہنچ چکا ہے، مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ دو ماہ گزرنے کے باوجود حکومت کی جانب سے کسی قسم کی تنخواہ یا معاوضہ ادا نہیں کیا گیا۔

اساتذہ کا کہنا ہے کہ آئے روز عوامی بدسلوکی، عدم تحفظ اور انتظامیہ کی جانب سے دباؤ نے ان کی عزتِ نفس کو شدید ٹھیس پہنچائی ہے جن ہاتھوں میں قلم ہونا چاہیے تھا، آج انہی ہاتھوں میں کمپیوٹر ٹیبلٹ تھما کر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو اساتذہ کے وقار کے سراسر خلاف ہے، بدانتظامی کی وجہ سے ایک اہم عوامی فلاحی منصوبہ ناکامی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ان حالات کے پیش نظر تمام اساتذہ نے مطالبات کی منظوری تک پنجاب سوشو اکنامک رجسٹری سروے کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔

اساتذہ حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ سروے کی تمام بقایا تنخواہیں فوری طور پر ادا کی جائیں، اضافی ڈیوٹی کے عوض ہر انومیریٹر کو کم از کم 60 ہزار روپے ماہانہ معاوضہ دیا جائے، فیلڈ ورک کے دوران سیکیورٹی اہلکار فراہم کیے جائیں، دور دراز بلاکس کے باعث پیش آنے والے مسائل کے حل کیلئے معاوضوں میں واضح اضافہ کیا جائے اور عوامی عدم تعاون کی صورت میں غیر حاضری لگانے کی پالیسی ختم کر کے اساتذہ کو انتظامی تحفظ فراہم کیا جائے۔

اساتذہ نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، سروے کا بائیکاٹ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button