ویمن یونیورسٹی میں Qualitative Data Analysis with NVivo – Hands-on Training سیمینار

دی ویمن یونیورسٹی ملتان کے سینٹر فار پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے زیرِ اہتمام "Qualitative Data Analysis with NVivo – Hands-on Training” کے عنوان سے ایک روزہ تربیتی ورکشاپ ایل شیپ بلڈنگ میں منعقد ہوئی۔
ترجمان کے مطابق ورکشاپ کا مقصد اساتذہ اور طلبہ کو جدید تحقیقی و تجزیاتی سافٹ ویئر این ویوو کے عملی استعمال سے روشناس کرانا تھا۔
ورکشاپ کے ماہر ڈاکٹر محمد شاکر، چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشنل ٹریننگ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور تھے۔
انہوں نے شرکاء کو این ویوو کے مختلف فیچرز پر مفصل تربیت فراہم کی انہوں نے کوڈز، نوڈز، تھیمز، کیس کلاسیفیکیشنز، میموز، کوئریز اور مائنڈ میپس جیسے موضوعات پر عملی مظاہرے پیش کیے۔
ورکشاپ کی مہمان خصوصی ویمن یونیورسٹی ملتان کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ تھیں، انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی تحقیق میں ڈیجیٹل لٹریسی اور ریسرچ ایکسی لینس کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ اساتذہ اور طلبہ عالمی معیار کی تحقیق کے قابل بن سکیں، موجودہ دور میں تحقیقی محققین کے لیے جدید تجزیاتی ٹولز پر مہارت حاصل کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔
یہ تربیتی سیشن ویمن یونیورسٹی ملتان کی جانب سے جاری پیشہ ورانہ ترقی کے سلسلے میں ایک اہم اور کامیاب قدم ثابت ہوگا
۔
ڈاکٹر ثمینہ اختر، رجسٹرار نے کہا کوالٹیٹو اور مخلوط طریقوں کے ڈیٹا کے تجزیہ کے لیے ایک سافٹ ویئر پروگرام ہے جو محققین کو انٹرویوز، ویڈیوز، اور سوشل میڈیا پوسٹس جیسے غیر ساختہ ڈیٹا کی بڑی مقدار کو درآمد، ترتیب دینے، تجزیہ کرنے اور تصور کرنے میں مدد کرتا ہے۔
اس کا استعمال کوڈنگ، ڈیٹا ایکسپلوریشن ٹولز، اور ورڈ کلاؤڈز جیسی بصری آؤٹ پٹ جیسی خصوصیات کے ذریعے ڈیٹا کے اندر پیٹرن، تھیمز اور بصیرت تلاش کرنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ یہ سافٹ ویئر دنیا بھر کے ماہرین تعلیم اور پیشہ ور محققین استعمال کرتے ہیں اب یونیورسٹی کے ریسرچر بھی اس کو استعمال کرسکیں گے۔
سینٹر فار پروفیشنل ڈویلپمنٹ کی ڈائریکٹر اور ورکشاپ کی فوکل پرسن ڈاکٹر فریحہ سہیل نے کہا کہ اس طرح کی تربیتی ورکشاپس محققین کو اپنے کوالٹیٹیو ڈیٹا کو بامعنی اور قابلِ استعمال نتائج میں ڈھالنے میں مدد فراہم کرتی ہیں، جو کہ عالمی تحقیقی معیارات سے ہم آہنگ ہیں۔
شرکاء نے تحقیق میں کوالٹیٹیو ڈیٹا اینالیسس کے جدید طریقوں پر عملی تجربہ حاصل کیا اور اپنے تحقیقی کام میں ڈیجیٹل اوزاروں کے مؤثر استعمال پر اعتماد حاصل کیا، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔




















