Paid ad
Breaking NewsNationalتازہ ترین

ملکی پاور سیکٹر میں انتظامی بحران شدت اختیار کر گیا

بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں میٹرز کی شدید قلت کے باعث صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

مختلف ڈسکوزکئی ماہ سے خراب اور جلنے والے میٹرز تبدیل کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں جس کے نتیجے میں لاکھوں صارفین کو ایوریج بلنگ کے ذریعے غیر منصفانہ اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

بجلی کمپنیوں کی نجکاری ہونے اور اعلیٰ عہدوں پر پرائیویٹ افسران کی بھرتی سے ٹینڈرنگ میں مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ملک بھر کی 11 بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں 2 لاکھ 72 ہزار سے زائد خراب اور جلنے والے بجلی کے میٹرز تبدیل نہ ہوسکے ہیں۔ میٹرز کی کمی کے باعث یہ مسئلہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے جس پر کوئی واضح عملی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آ رہی۔

بجلی کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور اعلیٰ حکام اپنی مراعات بڑھانے اور انتظامی آسائشوں میں اضافہ کرنے میں مصروف ہیں جبکہ صارفین کو سہولت فراہم کرنے کے بنیادی معاملات نظر انداز کئے جا رہے ہیں۔

ڈسکوز میں فیصلہ سازی کا نظام غیر مؤثر ہو چکا ہے جس کی وجہ سے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ میٹرز کی عدم دستیابی کے باعث لاکھوں صارفین کو حقیقی ریڈنگ کی بجائے کروڑوں یونٹس کی ایوریج پر ماہانہ بل تھما ئے جا رہے ہیں، اس عمل سے جہاں بجلی کمپنیاں اربوں روپے اضافی وصول کر رہی ہیں وہیں عام صارفین کے لئے بل ادا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔

کئی صارفین نے شکایت کی ہے کہ ایوریج بلنگ کی وجہ سے ان کے بل اصل استعمال سے کئی گنا زیادہ آ رہے ہیں، جبکہ متعدد کیسز میں ایوریج بل صارفین کے پورے بجٹ کو متاثر کر رہا ہے۔

پاور سیکٹر کی اکتوبر 2025ء کی رپورٹ کے مطابق لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو) میں سب سے زیادہ ایک لاکھ ایک ہزار 207سنگل اور تھری فیز میٹرز ایک ماہ سے 6 ماہ کی مدت سے جلے ہوئے ہیں۔

ملتان الیکٹرک پاورکمپنی (میپکو) 89ہزار309خراب میٹرز کے ساتھ دوسرے اور گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو) 43 ہزار 634 جلنے والے میٹرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) میں 21 ہزار 267، اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو) میں 9 ہزار 368، پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی میں 2 ہزار 474، ہزارہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(ہزیکو) میں 774، حیدر آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں 2 ہزار 142، سکھر الیکٹرک پاور کمپنی (سیپکو) میں 71، کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کمپنی(کیسکو) میں 2 ہزار 109 اور ٹرائبل ایریا الیکٹرک سپلائی کمپنی(ٹیسکو) میں 46 خراب میٹرز انتظامی نااہلی کے باعث طویل عرصہ سے تبدیل ہونے کے منتظر ہیں۔

ذرائع کا کہناہے کہ ناقص کارکردگی میں سرفہرست دونوں کمپنیوں میپکو اور لیسکو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین ایک ہی ہیں اور با اثر بورڈ ممبران بھی جو پاور سیکٹر کے گھاگ کھلاڑی ہیں جو بورڈ کے اجلاسوں میں کسی کی ایک نہیں چلنے دیتے۔

ذرائع نے مزید بتایاکہ میٹرز تبدیل ہونے کی سب سے بڑی وجہ بورڈ آف ڈائریکٹرز کی نااہلی اور غیرموزوں /سیاسی آشیر باد کے حامل اعلیٰ عہدوں پر بھرتی ہونے والے افسران ہیں جو ماہانہ لاکھوں روپے تنخواہوں کی مد میں لیکر خزانے کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں میٹرز کی قلت صرف بدانتظامی نہیں بلکہ فراہمی کے معاہدوں میں تاخیر، درآمدی مسائل اور منصوبہ بندی کے فقدان کا نتیجہ ہے، اگر حکومت اور پاور ڈویژن نے فوری قدم نہ اٹھایا تو آنے والے مہینوں میں یہ بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button