Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

ٹیچرز الاؤنس پر ایک نیا تنازع سامنے آگیا، اساتذہ کمیونٹی میں بے چینی

محکمہ اسکول ایجوکیشن کی جانب سے الاؤنس کی اصولی منظوری دی جا چکی ہے، تاہم سرکاری فائلوں میں محکمہ خزانہ اور محکمہ قانون کی جانب سے اس پر سنگین اعتراضات اٹھا دیے گئے ہیں، جس کے باعث اساتذہ میں بے چینی پائی جا رہی ہے۔

محکمہ خزانہ پنجاب نے ٹیچرز الاؤنس کی مد میں سالانہ 2.7 ارب روپے کے اضافی مالی بوجھ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ صوبے کے تعلیمی بجٹ کا تقریباً 80 فیصد حصہ پہلے ہی اساتذہ کی تنخواہوں اور مراعات پر خرچ ہو رہا ہے، جبکہ موجودہ حالات میں آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کے باعث حکومت کے پاس کسی نئے الاؤنس کے لیے اضافی مالی گنجائش موجود نہیں ہے۔

محکمہ خزانہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ معاشی دباؤ اور مالی نظم و ضبط کے تقاضوں کے تحت ایسے فیصلے انتہائی احتیاط کے متقاضی ہیں، کیونکہ غیر منصوبہ بند اخراجات صوبائی بجٹ پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

دوسری جانب محکمہ قانون پنجاب نے بھی ٹیچرز الاؤنس کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں، محکمہ قانون کے مطابق سروس رولز میں واضح ترمیم کے بغیر کسی نئے الاؤنس کی منظوری قانونی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے، پرائمری اور ایلیمنٹری سطح پر ہیڈ ٹیچر کی باقاعدہ پوسٹ ہی موجود نہیں، ایسے میں مخصوص عہدوں سے منسلک الاؤنس دینا قوانین سے متصادم ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ خزانہ نے اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے تجویز کردہ الاؤنس کے قواعد و ضوابط پر بھی اعتراضات اٹھائے ہیں، اساتذہ کے لیے 12 ہزار روپے سے 50 ہزار روپے تک ماہانہ الاؤنس کی منظوری دی گئی تھی، تاہم اس کی تقسیم، اہلیت اور قانونی بنیاد کو غیر واضح قرار دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ان اعتراضات کے باعث ٹیچرز الاؤنس کا معاملہ ایک بار پھر مختلف محکموں کے درمیان پھنسا ہوا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ ہونے تک الاؤنس پر عملدرآمد کا امکان کم دکھائی دیتا ہے۔

دوسری جانب اساتذہ تنظیموں نے الاؤنس میں تاخیر اور غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے فوری اور واضح فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button