2026ء سے اساتذہ کی لائسنسنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ

محکمہ سکول ایجوکیشن نے 2026ء سے اساتذہ کی لائسنسنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کرلیا۔
پیشہ ورانہ اہلیت یقینی بنانے کیلئے تدریسی لائسنس لازم ہوگا۔
بتایا گیا ہے کہ محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب نے تعلیمی نظام میں اہم اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے سال 2026ء سے سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کے تمام اساتذہ کے لیے تدریسی لائسنس کا حصول لازمی قرار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے کے تحت تدریس کے شعبے میں ملازمت کے خواہش مند افراد کو پاکستان ایجوکیشن کمیشن (PEC) کے تحت ٹیسٹ پاس کرنا ہوگا، جس کے بعد ہی انہیں پڑھانے کا لائسنس جاری کیا جائے گا۔
محکمہ تعلیم کے ترجمان کے مطابق تدریسی لائسنس کا مقصد معیارِ تعلیم میں بہتری لانا اور اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ “دنیا میں ہر معیاری تعلیمی نظام لائسنس یافتہ اساتذہ پر چلتا ہے، اور اب پاکستان بھی اس سمت قدم بڑھا رہا ہے”۔
ذرائع نے بتایا کہ عارضی طور پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کے کنٹریکٹ میں توسیع بھی صرف ان افراد کو دی جائے گی جو لائسنس حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے، جبکہ تدریسی لائسنس کی سمری منظوری کے لیے جلد صوبائی کابینہ کو ارسال کر دی جائے گی۔
ماہرین تعلیم نے اس حکومتی اقدام کو تعلیمی شعبے میں ایک “انقلابی قدم” قرار دیا ہے۔ تعلیمی ماہر ڈاکٹر ارشد محمود نے رائے دیتے ہوئے کہا:“اساتذہ کی صلاحیتوں کے معیار کو یقینی بنانا ہی مضبوط تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ یہ فیصلہ پاکستان کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا”۔
دوسری جانب اساتذہ کی نمایندہ تنظیموں نے اس فیصلے کا مشروط خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو لائسنسنگ کے ساتھ ساتھ تربیتی پروگراموں میں بھی بہتری لانا ہوگی تاکہ اساتذہ آزمائش کے بجائے سہولت اور رہنمائی کے ذریعے اپنی قابلیت میں اضافہ کرسکیںلائسنسنگ اچھی بات ہے، بس عملدرآمد منصفانہ اور شفاف ہونا چاہیے، اور موجودہ اساتذہ کو تربیتی سپورٹ بھی فراہم کی جائے”۔
تعلیمی حلقوں کا ماننا ہے کہ یہ نظام اگر درست طریقے سے نافذ کیا گیا تو نہ صرف تدریس کے معیار میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر تربیت یافتہ اور غیر پیشہ ور افراد کا شعبہ تعلیم میں داخلہ بھی محدود ہو جائے گا، حکومت کے مطابق آئندہ برس سے اس بارے میں آگاہی مہم بھی شروع کی جائے گی۔



















