Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

جامعہ زرعیہ : یونیسکو چیئرز کی کوارڈینیشن میٹنگ اور انٹرنیشنل بائیو سفیئر ریزرو ڈے سیمینار کا انعقاد

ایم این ایس زرعی یونیورسٹی میں یونیسکو چیئرز کی کوارڈینیشن میٹنگ اور انٹرنیشنل بائیو سفیئر ریزرو ڈے سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس میں پاکستان بھر کی مختلف جامعات محققین ماہرین جنگلات پالیسی سازوں اور یونیسکو کے نمائندگان نے شرکت کی ،ان دونوں سرگرمیوں کا مقصد پاکستان میں پائیدار ترقی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور بائیو سفیئر ریزرو کے موثر انتظام کے لیے تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔

اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر آصف علی اور یونیسکو چیئر برائے لو کاربن اینڈ سسٹینیبل ایگری کلچر ان بائیو سفیر ریزرو” دونوں تقریبات کے مرکزی مقرر رہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو درپیش ماحولیاتی زرعی اور موسمیاتی چیلنجز مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے بغیر حل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے خاص طور پر لال سہانرا سفیئر ریزرو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا عظیم قدرتی اثاثہ ہے جس کے تحفظ کے لیے سائنسی تحقیق مقامی کمیونیٹیز کی شمولیت اور پائیدار انتظام کی حیاتیاتی تنوع و انتہائی ضروری ہے۔

ڈاکٹر آصف علی نے کہا کہ بائیو سفیئر ریزرو صرف محفوظ علاقے نہیں بلکہ ایسے زندہ تجربہ گاہیں ہیں جہاں انسان فطرت اور معاش معاشی سرگرمیاں باہم ہم آہنگ ہو کر چل سکتی ہیں۔انہوں نے تمام یونیسکو چیئرز پر زور دیا کہ تحقیق تربیت مشترکہ منصوبوں اور باقاعدہ رابطہ کاری کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو یکجا کریں تاکہ زیادہ مضبوط اور دیرپا نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

یونیسکو پاکستان کے سربراہ فواد پاشیو نے اپنے خطاب میں نوجوانوں کے کردار کو خصوصی اہمیت دی انہوں نے کہا کہ نوجوان آب و ہوا ماحول اور سماجی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقات میں سے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیسکو چیئرز پاکستان میں علمی قیادت اور بین الاقوامی تعاون کا اہم ذریعہ ہے۔اس لیے انہیں سائنسی تحقیق مقامی ضروریات اور عالمی معیار کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

میٹنگ کے دوران مختلف جامعات کے یونیسکو چیئر ہولڈر نے اپنے پروگراموں اور مستقبل کے منصوبوں پر روشنی ڈالی۔زرعی یونیورسٹی ملتان کی چیئر نے کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے والی زراعت موسمیاتی مواقفت کسانوں کی تربیت اور بائیو سفیئر ریزرو کے قریب کمیونٹیز کی مدد سے ہونے والے عملی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔پروفیسر ڈاکٹر نعمان نے پائیدار شہری ترقی شہری لچک اور پالیسی تعاون پر بات کی۔

کامسیٹ یونیورسٹی واہ کینٹ اسلام آباد چیئر نے پانی کے مربوط انتظام ہائیڈرو لوجیکل ماڈلنگ اور پانی کے تحفظ کی کاوشوں کا تعارف کروایا۔میٹنگ کے بعد سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان کے چار بائیو سفیر ریزرووز لال سہانڑا ،زیارت جونیپر،چترال بشکار گرم چشمہ اور گلیات کی اہمیت اجاگر کی گئی۔

دیگر مقررین نے حیاتیاتی تنوع اور پائیدار انتظام کے مختلف پہلیوں پر مفصل گفتگو کی۔پروفیسر شہباز خان نئے انسان اور فطرت کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔پروفیسر ڈاکٹر مارٹن ویلپ نیم بین الاقوامی تعاون اور سائنسی تحقیق کو بائیو سفیئیر ریزرو کے موثر انتظام کے لیے بنیاد قرار دیا۔

چیف کنزرویٹر جنگلات محمد نواز سندھیلہ نے جنوبی پنجاب میں صحرائی جنگلات کی بحالی اور پائیدار شجر کاری کے عملی تجربات شیئر کیے۔

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اشفاق وائس چانسلر غازی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عرفان بیگ سمیت دیگر فیکلٹی بھی موجود تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button