این ایف سی کے وائس چانسلر کا اقتدار کو طول دینے کی ایک اور کوشش، بھرتی کا خود ہی اشتہار دے دیا
این ایف سی انسٹیٹیوٹ آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ملتان کے ناجائز، غیر قانونی، غیر اخلاقی اور اذیت پسند وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ قوانین اور ضابطوں کی غلط تشریح کے حوالے سے لاکھوں روپوں کی فیسوں پر قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کرنے پر یونیورسٹی کے فنڈز کا آزادانہ استعمال کے کاریگر سمجھے جاتے ہیں،سپریم کورٹ آف پاکستان میں وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جمع کروائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں ۔
این ایف سی کے وائس چانسلر کے ریسرچ پیپرز پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا
رپورٹ میں واضح طور پر سپریم کورٹ آف پاکستان کو تحریری طور پر بتایا گیا ہے کہ وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو این ایف سی کے قوانین کی غلط تشریح اور سیاسی وابستگی کو استعمال کرکے یونیورسٹی پر اپنے غیر قانونی قبضے کو طول دے رہے ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو نے رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کے ذریعے ایک بار پھر دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
این ایف سی انسٹی ٹیوٹ پر قبضے کے 12 سال
وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم نے اپنے زیر انتظام اداروں کو وائس چانسلر کے علاوہ باقی مخصوص مدتی پوزیشنز رجسٹرار، خزانچی اور کنٹرولر کی نشستوں کو مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں، اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمع کروائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں ۔
این ایف سی انجینئرنگ یونیورسٹی کا وائس چانسلر غیر قانونی نکلا، عدالت عالیہ نے بلایا
رپورٹ کے مطابق چونکہ این ایف سی کی سینیٹ حال ہی میں مکمل کی گئی ہے تو وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے ایجنڈہ سینیٹ کی میٹنگ میں رکھا جائے گا، چونکہ سینیٹ کی میٹنگ ابھی تک نہ ہو سکی ہے تو اس بابت غیر قانونی اور ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کا وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے اشتہار دینا نہایت ہی غیر قانونی اقدام اور دھوکہ دہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
این ایف سی انسٹی ٹیوٹ کا نوحہ
یاد رہے کہ 10 جنوری 2024 کو بھی ناجائز طور پر تعینات رجسٹرار بغیر کسی اتھارٹی کے وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے اشتہار دے چکے تھے جسے 11 جنوری 2024 کو مقامی اخبار میں خبر شائع ہونے پر 14 جنوری 2024 کو وفاقی وزارت تعلیم کی جانب سے غیر قانونی قرار دے دیا گیا تھا ۔
مگر دھوکہ دہی کے ماہر ناجائز وائس چانسلر یونیورسٹی کے انتظامی ٹولے نے ایک بار پھر دھوکہ دیتے ہوئے بغیر سینیٹ کی منظوری ایک بار پھر وائس چانسلر کے لیے اخبار اشتہار دے دیا ہے، اور اس اخباری اشتہار میں سپریم کورٹ آف پاکستان کی جن ہدایات کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کے مطابق صرف رجسٹرار ، خزانہ دار اور کنٹرولر کی آسامیاں مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئی تھی اور وائس چانسلر کی تعیناتی کا ایجنڈا سینیٹ سے منظور کروانا لازمی ہے۔
وائس چانسلر کے لیے اشتہار صرف اور صرف ڈاکٹر اختر کالرو کو اکاموڈیٹ کرنے اور ان کی گزشتہ سات سال سے غیر قانونی تعیناتی کو قانونی شکل دینے اور غیر قانونی تعیناتی کے گزشتہ ادوار کو ریگولر کرنے کے لئے گزشتہ اشتہار دیا گیا تھا کیونکہ دسمبر کے پہلے ہفتے میں شائع ہونے والے کے اشتہار کے دو ماہ بعد 65 سال کی عمر ہونے پر ڈاکٹر کالرو اپلائی نہیں کر سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں ۔
عدالت عالیہ ملتان نے این ایف سی کے وائس چانسلر کو طلب کرلیا
گزشتہ روز شائع ہونے والے اشتہار میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جن اُمیدواروں نے 10 جنوری 2024 کے اخباری اشتہار کے مطابق اپلائی کیا تھا ان کو دوبارہ اپلائی کرنے کی ضرورت نہ ہے، مگر مزکورہ اخبار اشتہار کو وفاقی وزارت تعلیم پہلے ہی 14 جنوری 2024 کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے کیونکہ وہ اخباری اشتہار متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا تھا اور وائس چانسلر کی آسامی کے لیے یہ اخبار اشتہار بھی متعلقہ اتھارٹی کی منظوری کے بغیر جاری کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ 10 جنوری کے اخباری اشتہار دینے کی سب سے بڑی وجہ اور کل کے وائس چانسلر کی آسامی کے لیے اشتہار کی بڑی وجہ غیر قانونی اور ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کا خود ہی کو ہی تعینات کروانا تھا، کیونکہ سابقہ اخبار اشتہار کی آخری تاریخ 29 جنوری رکھی گئی تھی اور وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو کی عمر 31 جنوری 2024 کو 65 پوری ہو رہی تھی۔
مبینہ طور پر وائس چانسلر سینیٹ کی میٹنگ میں رکاوٹ بن رہے ہیں، جس کی بابت سینیٹ کی میٹنگ کے لیے متعدد لیٹرز یونیورسٹی رجسٹرار کو لکھے جا چکے ہیں، مگر ناجائز وائس چانسلر ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کو سینیٹ کی میٹنگ نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہتے ہیں، جب تک سینیٹ کی میٹنگ نہ ہوگی تب تک سرچ کمیٹی نہیں بن سکتی اور نہ ہو وائس چانسلر کی تعیناتی کے لیے اشتہار دیا جا سکتا ہے۔
اگر وفاقی وزارت تعلیم نے اس طرح کی کوئی ہدایات جاری کی ہیں کہ وائس چانسلر کی تعیناتی کو بھی رجسٹرار ڈائیریکٹ بغیر کسی اتھارٹی کی منظوری کے مکمل کرے تو یہ بھی اس سسٹم اور این ایف سی یونیورسٹی کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور دھوکہ دہی کے مترادف ہے اور اس جرم میں وفاقی وزارت تعلیم کے سیکرٹری محی الدین احمد وانی ، سینیئر جوائنٹ سیکرٹری عبد السّتار کھوکھر اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی ناجائز وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو اور ناجائز رجسٹرار نصر اللہ خان بابر کے ساتھ ملوث ہیں۔
حقیقتاً وائس چانسلر ڈاکٹر اختر کالرو جو کہ غیر قانونی وائس چانسلر ہیں، اور رجسٹرار جو کہ قائم مقام ہونے کے ساتھ ساتھ غیر قانونی بھی ہیں وہ ایک چپڑاسی کے لیے اخبار اشتہار دینے کے اہل نہیںز وہ کیونکر اور کیسے اتنی اہم نشستوں کے لیے اشتہار دے سکتے ہیں؟؟



















