مردم شماری پر اساتذہ کے اعتراضات سامنے آنے لگے
مردم شُماری کی ٹریننگ شروع ہوگئی، جس پر اساتذہ تنظمیوں کے اعتراضات سامنےآئے ہیں۔
محمد یونس خان لودھی صوبائی جوائنٹ سیکریٹری پنجاب ایس ای ایس ٹیچرز ایسوسی ایشن پنجاب نے کہا ہے کہ ہر سکول سے ایک سے دو ٹیچر ٹریننگ پر ہوں گے ، پھر دو گروپ اور ٹریننگ کریں گے۔
یکم فروری سے چار مارچ تک مردم شُماری ھو گی، تقریباً ہر سکول سے ایک سے تین ٹیچر ڈیوٹی سر انجام دیں گے، کئی سکولوں میں ایک یا دو ٹیچر بچ جائیں گے، س کے علاؤہ ان کو ضرورت کے مطابق چھٹی کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے، جہاں تعداد پچاس سے دو سو یا اوپر ہے، ایک یا دو ٹیچر کیسے اپنے فرائض منصبی سر انجام دیں گے ؟؟؟ ایسی ڈیوٹیز فریش ایجوکیٹرز یا پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کو دیں جائیں۔
اس کے علاؤہ ہائی سکولوں میں جن سانئس ٹیچر انگلش ٹیچر کی ڈیوٹی ہوگی، جماعت نہم اور دہم کے بچوں کی تیاری کیسے ہوگی ؟ کیونکہ مارچ اپریل میں ہی سالانہ امتحانات ھوں گے ۔
ان طلباء کی تیاری کا ذمہ دار کون ھو گا ، پھر نتائج کا ذمہ دار کون ؟ بدنامی تو اساتذہ کی ہوگی۔
تعلیمی سال بھی مختصر ہے ، کیونکہ 30 مارچ پر ختم ہونا ہے
کیا یہ مردم شُماری موسم کی تعطیلات میں نہیں ھو سکتی، اساتذہ سے کام کرانے سے پہلے نتائج کا ذمہ دار اساتذہ کو ٹھہرنا زیادتی ہو گی ۔




















