293 مرد و خواتین کالج اساتذہ کے تبادلوں پر سوالات اٹھنے لگے

محکمہ ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے ہارڈ شپ بنیاد پر 293 مرد و خواتین کالج اساتذہ کے تبادلوں کے احکامات جاری کیے جانے کے بعد تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تبادلوں کی فہرستیں سامنے آنے پر متعدد کالجز کے پرنسپلز نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جن شعبہ جات میں پہلے ہی اساتذہ کی تعداد ضرورت سے زیادہ تھی، وہاں مزید اساتذہ تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ بعض چھوٹے اور دور دراز علاقوں کے کالجز اساتذہ سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق جب اس صورتحال کی نشاندہی ڈائریکٹر کالجز کو کی گئی تو معاملہ اعلیٰ حکام تک جا پہنچا، جہاں سے واضح ہدایات جاری کی گئیں کہ پرنسپلز بلا چوں و چراں اساتذہ کی ریلیونگ اور جوائننگ کو یقینی بنائیں اور پالیسی معاملات کی فکر نہ کریں۔
یہ صورتحال بظاہر تو ان اساتذہ کے لیے خوش آئند سمجھی جا رہی ہے جن کی پوسٹنگ گھر سے دور تھی اور جنہیں اب اپنے آبائی یا قریبی علاقوں میں تعیناتی ملی ہے، تاہم تعلیمی ماہرین اور اساتذہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ہارڈ شپ ٹرانسفر تک محدود نہیں بلکہ گہرے غور و فکر کا متقاضی ہے۔
تعلیمی حلقوں میں یہ خدشہ شدت اختیار کر رہا ہے کہ سکولوں کی نجکاری کے کامیاب (یا متنازع) تجربے کے بعد اب کالجز میں بھی وہی ماڈل آزمایا جا رہا ہے، مبینہ حکمتِ عملی کے تحت پہلے مرحلے میں بھرتیوں کا سلسلہ بند کیا گیا، دوسرے مرحلے میں چھوٹے اور دور افتادہ علاقوں کے کالجز سے اساتذہ کو بڑے شہروں کے کالجز میں منتقل کیا جا رہا ہے، اور پھر یہ مؤقف اختیار کیا جائے گا کہ بعض کالجز میں انرولمنٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں اساتذہ ہی موجود نہ ہوں وہاں طلباء اور والدین کیسے اعتماد کریں گے؟ نتیجتاً ان اداروں کو ناکام قرار دے کر آؤٹ سورسنگ یا نجکاری کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ اس تمام صورتحال کے باوجود اساتذہ کی ہزاروں آسامیاں مختلف گریڈز میں تاحال خالی پڑی ہیں، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 کے بعد گریڈ 19 اور 20 میں ڈائریکٹ کوٹہ کے تحت بھرتیاں نہیں کی گئیں، جبکہ 2022 کے بعد لیکچررز کی نئی بھرتی کا عمل بھی عملاً بند ہے۔
اساتذہ تنظیموں اور تعلیمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ تبادلوں کی پالیسی کو شفاف بنایا جائے، کالجز کی اصل ضروریات کے مطابق اساتذہ تعینات کیے جائیں اور تعلیم جیسے حساس شعبے کو کسی تجربہ گاہ کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔




















