سروے پر تعینات اساتذہ پر ڈبل ڈیوٹی کی تلوار لٹک گئی

سوشو اکنامک سروے پر تعینات سینکڑوں اساتذہ کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ محکمہ تعلیم کی جانب سے انہیں ڈبل ڈیوٹی انجام دینے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
اس فیصلے کے تحت اساتذہ دن کے اوقات میں سکولوں میں تدریسی فرائض انجام دیں گے جبکہ بعد ازاں انہیں سروے ڈیوٹی پر بھی جانا ہوگا۔
ذرائع کے مطابق اس وقت صوبے کے مختلف سرکاری سکولوں سے تقریباً 1500 اساتذہ سوشیو اکنامک سروے پر تعینات ہیں، جس کے باعث متعدد تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی پیدا ہو چکی ہے اور تدریسی سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ سالانہ امتحانات کے پیش نظر ڈیوٹیوں میں تبدیلی کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی نظام کو جاری رکھا جا سکے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں۔
دوسری جانب متاثرہ اساتذہ نے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈبل ڈیوٹی دینا ان کے لیے ممکن نہیں۔ اساتذہ کا مؤقف ہے کہ ایک ہی دن میں تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ سروے ڈیوٹی انجام دینا نہ صرف جسمانی اور ذہنی دباؤ کا باعث ہے بلکہ تعلیمی معیار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
اساتذہ نے وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور سوشو اکنامک سروے کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں، تاکہ تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوں اور نہ ہی اساتذہ کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔




















