اے ایس اے زکریا یونیورسٹی میں اساتذہ نے مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج شروع کر دیا

اے ایس اے کی کال پر زکریا یونیورسٹی میں اساتذہ نے احتجاج شروع کر دیا، سیکرٹری ڈاکٹر خاور نوازش کا کہنا ہے کہ اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی ‘یومِ سیاہ’ کی کال پر جس طرح بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے اساتذہ نے متحد ہونے کا ثبوت دیا اور کالی پٹیاں باندھ کر اپنے تدریسی فرائض انجام دیے اور انتظامیہ پر یہ واضح کر دیا کہ ہم اپنے جائز مطالبات اور اُن کی طرف سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل تک اس سفر کو جاری رکھیں گے۔
انکا مزید کہنا تھا کہ ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہے کہ آج کی یہ سرگرمی محض آغاز ہے۔ ابھی سفر طویل ہے اور ہمیں اسے پوری قوت اور اتحاد کے ساتھ اسی طرح جاری رکھنا ہے، اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن جو بی زیڈ یو کے ایکٹ کی رُو سے اساتذہ کا ایک قانونی فورم ہے، اس کی معروضات کو نظر انداز کرنا اور جامعہ زکریا کو ایک نجی کمپنی کے طرح چلانے کی کوشش کرنا ہمیں کسی بھی طرح قبول نہیں ہے۔ اے ایس اے کی کال پر اساتذہ نے متحد ہو کر پہلے جنرل باڈی کے ذریعے اپنی گزارشات وائس چانسلر اور انتظامیہ کو پہنچائیں لیکن انھوں نے اس پر غور کرنا گوارا نہیں کیا۔
آج تمام اساتذہ نے یومِ سیاہ کا بھرپور شرکت کےساتھ انعقاد کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ انتظامیہ کو اپنی من مانی نہیں کرنے دیں گے اور بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ایکٹ اور قوانین سے بالاتر اور فردِ واحد کی ذاتی مرضی کے تحت ہونے والے فیصلوں کو قبول نہیں کریں گے۔
ہماری یہ احتجاجی تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انتظامیہ اکیڈیمک سٹاف ایسوسی ایشن کی متفقہ قرارداد پر عمل نہیں کرتی اور اساتذہ کی آواز کو اہمیت نہیں دیتی۔ آج بھی ہم اسے جذبے کے ساتھ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے اور تمام اساتذہ کالی پٹیاں باندھ کر اپنے تدریسی فرائض انجام دیں گے تدریسی فرائض کے ساتھ اولین کمٹ منٹ کو ثابت کرنا ہے ۔ اس کے بعد بھی اگر انتظامیہ کو ہماری آواز سنائی نہیں دیتی تو ہم اپنی تحریک کے اگلے مرحلے میں پہلے آدھے دن کے لیے کلاس ورک کا بائیکاٹ کریں گے۔
یہ رویہ جاری رہا تو تیسرے مرحلے میں یونیورسٹی میں تدریسی عمل جاری نہیں رہے گا اور اساتذہ اپنے حقوق کے حصول اور انتظامیہ کے ہاتھوں عزت و وقار مجروح ہونے کے خلاف دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔




















