Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی ملتان : لاء کے طلباء نے احتجاج کا اعلان کردیا

زکریا یونیورسٹی میں لاء سٹوڈنٹس کو 9 فروری سے شروع ہونے والے امتحانات میں شرکت سے روکا جارہا ہے ، اگر دو روز میں رول نمبر سلپس نہ ملیں تو طلباء یونین کے ساتھ ملکر سڑکوں پر آجائیں گے۔

ان خیالات کا اظہار لاء سٹوڈنٹس کمیشن پاکستان کے رہنما لقمان خان ایڈوکیٹ ،نعمان حنیف ترگڑ ،ملک محمد اویس کھوکھر نے ساتھیوں کے ہمراہ ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ، انہوں نے کہا کہ بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان جنوبی پنجاب کی اور تاریخی یونیورسٹی ہے جس کے لاء سٹڈی سنٹر، کنٹرولر امتحانات اور ایڈمن سٹاف کے آپس کی جھگڑوں، انتظامی نااہلیوں کے باعث سینکڑوں طلبہ و طالبات جن کا تعلق ایل ایل بی پانچ سالہ پروگرام سے ہے کا معاشی اور تعلیمی نقصان کیا ہے، اس بابت متاثرہ طلباء وطالبات چند اہم نقاط میڈیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔

سیکڑوں طلباء وطالبات سے کروڑوں روپے فیسوں کی مد میں یونیورسٹی نے وصول کیے ہیں مگر 9 فروری 2026 کو ہونے والے امتحانات میں بغیر کسی قانونی جواز کے طلبا و طالبات کو شامل ہونے سے روک دیا گیا ہے، اس وجہ سے طلباء کی ڈگریاں مزید التواء کا شکار ہونے کا خدشہ ہے، پانچ سالہ پروگرام کم از کم نو سالوں میں شاید مکمل کروایا جائے گا، جس کے باعث سینکڑوں طلبہ کی عمر ضائع ہو چکی ہے، کم حاضری والے طلباء طالبات کو سیشن کے دوران قبل از وقت آگاہ نہ کیا گیا اور بر وقت اضافی کلاسسز نہ دی گئیں جس کی انتظامی نا اہلی لا سٹڈی سنٹر پر عائد ہوتی ہے، اب بھاری فیسوں کی مد میں مزید رقم طلباء سے ہڑپنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جس سے طلبہ اپنے سیشن سے جونیئر ہو جا ئیں گے اور اس سیشن گیپ کو ختم کرنے کا کوئی حکمت عملی نہیں بنایا جارہا۔

پاکستان کے آئین، ریگولیٹنگ اتھارٹیز ، پاکستان بار کونسل، پنجاب بار کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کے مطابق قانون کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی حد مقرر نہ ہے جبکہ بھاری فیسیں وصول کرنے اور مکمل سال پڑھائی کرنے کے بعد بہت سے طلبہ کو غیر قانونی طور پر 24 سال سے زیادہ عمر ہونے کا بہانہ بنا کر امتحانات سے روک دیا گیا ہے جبکہ یہ وہی طلباء ہیں جو پہلے ہی تین سال پاس کر چکے ہیں۔

لہٰذا اب چوتھے سال میں ایسے غیر منطقی اور غیر قانونی اعتراضات لگا کر طلباء کو تعلیمی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔عدالتی کیسز اور گھوسٹ کالجز سے تعلق رکھنے والے طلبہ و طالبات سے کروڑوں روپے فیسوں کی مد میں اکٹھے کیے گئے ہیں مگر ان کا امتحان بھی بغیر کسی قانونی منطق بلا جواز روک دیا گیا ہے جبکہ ہر کام کو سینڈیکیٹ کے نام سے منسوب کر دیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متاثرہ طلبا وطالبات بی زیڈ یو کی اس تعلیم دشمن پالیسیوں پر ثبوتوں کے ہمراہ روشناس کروانا چاہتی ہے جس کیلئے میڈیا کے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button