Paid ad
Breaking NewsEducationتازہ ترین

زکریا یونیورسٹی ہراسگی کیس؛ انکوائری کمیٹی کی سفارشات جاری ،حتمی فیصلہ عدالتی احکامات سے مشروط

زکریا یونیورسٹی ملتان میں ہراسگی سے متعلق ایک سنگین نوعیت کے معاملے پر قائم کی گئی انکوائری کمیٹی نے اپنی کارروائی مکمل کر کے سفارشات پیش کر دی ہیں۔

اس سلسلے میں کمیٹی کی سفارشات کے مطابق ڈاکٹر شازیہ افضل، اسسٹنٹ پروفیسر، محکمہ جنگلات و رینج مینجمنٹ نے مورخہ 30 ستمبر 2025 کو تحریری شکایت جمع کرائی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ 25 ستمبر 2025 کو ملزم پروفیسر ڈاکٹر احسان قادر نے ان کے دفتر میں مبینہ طور پر زیادتی کی، جسمانی حملہ کیا، دھمکیاں دیں اور تھپڑ مارے۔

یونیورسٹی انتظامیہ نے اس شکایت کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کی ہراسگی کے خلاف تحفظ سے متعلق پالیسی کے تحت ہراساں کرنے کی انکوائری کمیٹی کے سپرد کیا، کمیٹی نے شکایت موصول ہونے کے بعد مقررہ ضابطہ کار کے مطابق باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کیا اور شکایت کنندہ کی تحریری درخواست، تمام معاون دستاویزات، شکایت کنندہ اور ملزم کے تحریری و زبانی بیانات کا تفصیلی جائزہ لیا۔

انکوائری کے دوران کمیٹی نے متعلقہ عملے اور طلباء سے بھی تفتیش کی، دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور دونوں فریقین سے جرح کی۔

کمیٹی نے اپنے نتائج اخذ کرتے وقت تمام ثبوتی مواد، مبینہ واقعے کے وقت کے حالات، اور واقعے سے قبل اور بعد میں دونوں فریقین کے رویے کو بھی مدنظر رکھا، جامع تحقیقات کے بعد کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ معاملہ حساس اور کثیر الجہتی نوعیت کا حامل ہے۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ عصمت دری اور جسمانی حملے سے متعلق الزامات کے تعین کے لیے ضروری لیب اور فرانزک سہولیات بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں موجود نہیں ہیں۔ تاہم اس نوعیت کی سہولیات سے لیس متعلقہ تحقیقاتی ادارے اس معاملے کی کارروائی کر رہے ہیں، اسی بنا پر عصمت دری اور جسمانی حملے کے الزامات تاحال زیر سماعت ہیں اور ان پر فیصلہ کمیٹی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔

انکوائری کمیٹی کا موقف ہے کہ چونکہ معاملہ عدالتی کارروائی کے مراحل میں ہے اور اس کے مختلف قانونی پہلو ہیں، اس لیے حتمی عدالتی فیصلے تک اس کیس کو التواء میں رکھا جائے جس پر کمیٹی کی ان سفارشات کی وائس چانسلر نے ایچ ای سی کی پالیسی آن پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ (نظرثانی شدہ 2025) کی شق 8.8 کے تحت توثیق کر دی ہے، جس کے مطابق آئندہ کارروائی عدالتی فیصلے کی روشنی میں کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اس سے قبل ڈاکٹر شازیہ نے یکم جنوری کو ایک درخواست وائس چانسلر کو ارسال کی تھی کہ انکوائری کمیٹی کافیصلہ جلد جاری کیا جائے اور اس میں مزید شواہد کو شامل کیا جائے جوان کی پہلی درخواست میں درج نہیں ہوسکیں تھیں ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button