پنجاب کریکلم اینڈ ٹیکسٹ بک بورڈ کا ظالمانہ اقدام؛ تاجروں کو لاکھوں کا نقصان، خراب کتابوں کے ڈھیر لگ گئے

پنجاب ٹیکسٹ بورڈ کی پالیسی نے تاجروں پر مالی بوجھ ڈال دیا۔
رواں برس بورڈ سے فراہم کردہ کتب میں کوئی کتاب مکمل نہیں، اگر مس پرنٹ ہے یا خراب ہے تو اس کی ذمے داری تاجر پر ہوگی، وہ کتب واپس یا تبدیل نہیں ہوں گی۔
اس سے قبل بورڈ ایسی تمام کتب کو تبدیل کرنے کاپابند ہوتا تھا ، نئے تعلیمی سیشن کے آغاز پر بورڈ کی طرف سے لگائی گئی اس پابندی نے تاجروں کو لاکھوں کا نقصان پہنچا دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ نئی کلاسز شروع ہوئی ہیں کتب کی کمی ہے، بورڈ سے آرڈر بند بورے میں ملتے ہیں، ان کتب کو کیسے چیک کیا جاسکتا ہے، سرکاری کتب پر صرف چند پیسے کی بچت ہے، ایسی صورت میں یہ نئی پابندی نے مشکل میں ڈال دیا ہے، طلباء بھی پریشان ہیںکہ اس کو کس طرح ہینڈل کیاجائے۔
انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کانوٹس لیں اور ٹیکسٹ بورڈ کی موجود ہ پالیسی کو تبدیل کرکے تاجر دوست پالیسی بنائی جائے ۔




















