ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ملتان کی گاڑیاں ورکشاپ میں کھڑی ہو گئیں، شہر میں گندگی کے انبار

ایک طرف “ستھرا پنجاب” کے بلند و بانگ دعوے اور دوسری جانب ملتان شہر کی تلخ حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے، جہاں صفائی کا نظام شدید بحران کا شکار ہو چکا ہے۔
ملتان ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی آدھے سے زائد گاڑیاں ورکشاپس میں کھڑی ہونے کے باعث شہر بھر میں کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگنا شروع ہو گئے ہیں، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق فنی خرابیوں اور مرمت کے مسائل کے باعث کمپنی کا بڑا حصہ غیر فعال ہو چکا ہے، جس کے نتیجے میں گلی محلوں، بازاروں اور رہائشی علاقوں میں صفائی کا عمل بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ جگہ جگہ جمع ہونے والا کچرا نہ صرف بدبو کا باعث بن رہا ہے بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔
دوسری جانب صفائی ورکرز نے بھی حالات کے خلاف بھرپور احتجاج شروع کر دیا ہے محنت کش یونین کے مطابق ورکرز کو کئی کئی ماہ سے تنخواہیں بروقت ادا نہیں کی جا رہیں، جبکہ جو ملازم اپنے حقوق کی بات کرتا ہے اسے نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں، ڈرائیورز کو گاڑیوں کی مرمت اپنی جیب سے کروانے پر مجبور کیا جا رہا ہے انہیں بنیادی حفاظتی سامان تک میسر نہیں، صفائی کرنے والے عملے کو ماسک، دستانے اور مناسب جوتے فراہم نہیں کیے جا رہے، جس سے ان کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ورکرز نے ان تمام ناانصافیوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مسائل حل کیے جائیں اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
شہریوں نے بھی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف “ستھرا پنجاب” کے دعوے کیے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ملتان میں صفائی کا نظام مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہا ہے اب دعوے نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں بلکہ فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ شہر کو گندگی سے نجات دلائی جا سکے اور صفائی کا نظام بحال ہو سکے۔














