Breaking NewsNationalتازہ ترین

ساری امداد نہیں قرضہ ہے : اسحاق ڈار

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے پاکستان میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے جنیوا کانفرنس میں اعلان کردہ رقم کے بارے میں وضاحت کی ہے۔

اسلام آباد میں جنیوا سے واپسی پر وزیراعظم شہباز شریف اور دیگر وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کی تین سال میں بحالی اور تعمیر نو مکمل کرنی ہے، تین سال میں ہم نے ری کنسٹرکشن اور ری ہیبلیٹیشن مکمل کرنی ہے۔

اس دوران ایک صحافی نے سوال کیا کہ کیا جنیوا کانفرنس کے اعلان کردہ 9 اعشاریہ 7 ارب ڈالر میں سے 8 ارب ڈالر قرضے ہیں؟

صحافی کے سوال پر وزیر خزانہ نے وضاحت کرتے ہوئےکہا کہ اعلانات میں سے پروجیکٹ لونز (قرض) کی رقم 8 ارب ڈالر سے زائد ہے، اور اگر سعودی ڈویلپمنٹ بینک کے ایک ارب ڈالر بھی شامل کر لیے جائیں تو یہ رقم 9 ارب ڈالر سے زائد ہوجائےگی۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ جنیوا کانفرنس میں مجموعی طور پر 9.7 ارب ڈالر کے وعدے ہوئے ہیں، بجٹ معاونت اور عطیات و امداد الگ الگ چیزیں ہیں، دوست ممالک کی جانب سے امدادکا اعلان کیا گیا ہےکہ جب کہ عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے اعلان کردہ رقم رعایتی قرض ہے، پاکستان کو جو بھی امداد ملےگی، ہمیں امید ہےکہ اس کی شرائط نرم ہوں گی۔

انہوں نے صحافیوں پر زور دیا کہ قرض کتنا ہے اور امدادکتنی ہے اس میں پڑنےکے بجائے ہمیں متاثرین کی بحالی پر توجہ دینی ہوگی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں