Breaking NewsEducationتازہ ترین

پاکستان میں بائیو ٹیکنالوجی کا سفر 40 سال پر محیط کہانی

انسٹیٹیوٹ آف زوآلوجی اور شعبہ مائیکروبیالوجی اینڈ مالیکولر جینٹکس بہاء الدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے زیراہتمام سیمینار بعنوان ’’ پاکستان میں بائیو ٹیکنالوجی کا سفر 40 سال پر محیط کہانی ‘‘ کا انعقاد کیاگیا۔

سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی ڈاکٹر یوسف ظفر وائس پریذیڈنٹ نیشنل کاٹن کمیٹی (سابقہ چیئرمین پی اے آر سی ) نے اپنے خطاب میں بائیو ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی شعبہ میں جدید خطوط پر استوار فصلوں کی پیداوار پر زور دیا، تاکہ سیلاب کے تناظر میں پیدا شدہ صورت حال میں خوراک کی ملکی ضروریات کو پورا کیاجاسکے، اور زرعی اجناس کی امپورٹ پر خرچ شدہ کثیر زرمبادلہ بچایا جاسکے۔

انہوں نے صحت کے میدان میں ویکسین کی ریسرچ کو ضروری قرار دیا، انہوں نے فیکلٹی کو کوالٹی ایجوکیشن کے زریں اصولوں کو اپنانے پر زور دیا، اور طلباء کو اپنی تخلیقی صلاحیتیں ملکی ترقی کے لیے اجاگر کرنے کی تلقین کی۔

پرو وائس چانسلر و ڈائریکٹر انسٹی ٹیوٹ آف زوآلوجی پروفیسر ڈاکٹر علیم احمد خان نے مہمان خصوصی ڈاکٹر یوسف ظفر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ طالب علم ہمارے ملک کی کامیابی و ترقی کے ضامن ہیں۔

ریسرچ اور انوویشن میں طلباء کا کلیدی کردار ملک کو کامیاب قوموں کی لسٹ میں کھڑا کرسکتا ہے۔

انہو ںنے طلباء کو تلقین کی کہ وہ اپنا وقت تعمیری سرگرمیوں میں صرف کریں اور اپنی توجہ صرف تعلیم پر مرکوز رکھیں۔

ڈاکٹر مبشر عزیز چیئرمین شعبہ مائیکرو بیالوجی اینڈ مالیکیولر جینٹکس نے کہاکہ اپلائیڈ مائیکرو بیالوجی کو بروئے کار لاکر صحت اور زرعی شعبہ میں ترقی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔

نظامت کے فرائض ڈاکٹر محمد عبیداللہ شعبہ مائیکرو بیالوجی اینڈ مالیکیولر جینٹکس نے سرانجام دیے ۔

سیمینار میں اساتذہ ڈاکٹر طاہرہ روبی، ڈاکٹر ثمرہ، ڈاکٹر قمر سعید، ڈاکٹر ریحانہ ، ڈاکٹر حمیرا، ڈاکٹر عائشہ، ڈاکٹر فریحہ لطیف، ڈاکٹر احمد اکرم، ڈاکٹر کوثر حسین شاہ، ڈاکٹر اسلم،پروفیسر ڈاکٹربابر سمیت طلباء کی کثیر تعداد موجود تھی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں