Breaking NewsEducationتازہ ترین

طلبا کےلئے بری خبر، اب 33 فیصد نمبر والے پاس نہیں ہوں گے

تعلیمی بورڈز کے تحت بچوں کے نتائج کو گریڈ سسٹم پر منتقل کرنے کا معاملہ، گریڈ سسٹم میں بچوں کی فی مضمون میں پاس ہونے کیلئے شرح تناسب 33 فیصد سےبڑھا دی گئی ۔

تعلیمی بورڈز کے تحت بچوں کے نتائج کو گریڈ سسٹم پر منتقل کرنے کے معاملےپر گریڈ سسٹم میں بچوں کی فی مضمون میں پاس ہونے کیلئے شرح تناسب 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کی جارہی ہے ، آئندہ تعلیمی سال سے مجموعی طور پر کل نمبرز کو بھی گریڈز میں تبدیل کردیا جائے گا۔

بچوں کی آگاہی کیلئے نجی تعلیمی اداروں نے گریڈنگ سسٹم کے تحت امتحانات لینا بھی شروع کردیے ہیں۔

امتحانات میں رٹہ سسٹم کے خاتمہ کیلئے تیس فیصدسوالات ہیڈن hidden شامل ہونگے۔ ہیڈن سوالات کا سلیبس کے اسباق سے مطابقت رکھنا لازمی ہوگا۔

سوالیہ پیپر میں ستر فیصد سوالات باب کے آخر میں موجود مشق یا ایکسرسائز سے لیے جاتے ہیں۔

پاس پرسنٹیج بڑھانے کی شرح کا اطلاق محکمہ ہائر ایجوکیشن کی منظوری کے بعد سال 2024 سے نافذ کیا جائے گا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

پاکستان میں کرونا وائرس کی صورت حال

گھر پر رہیں|محفوظ رہیں