پیپر آوٹ آف پیٹرن آگیا، بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا

تعلیمی بورڈ ملتان کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے میٹرک امتحانات میں پاکستان سٹڈیز کا پرچہ طلبہ کے لیے غیر متوقع ثابت ہوا، جو بورڈ کے جاری کردہ ماڈل پیپر سے یکسر مختلف تھا۔ طلبہ، اساتذہ اور والدین نے پیپر کے انداز پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسکولوں میں تدریس اور تیاری کا زیادہ تر فوکس ایکسرسائز پر رکھا گیا تھا، جبکہ پیپر سیٹر نے سوالیہ پرچے کا پیٹرن تبدیل کر دیا، جس کے باعث طلبہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی سوالات ایسے تھے جو نہ صرف غیر روایتی تھے بلکہ ماڈل پیپر کے مطابق بھی نہیں تھے۔
امتحان دینے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے 100 فیصد نمبرز حاصل کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا تھا، مگر پیپر کے غیر متوقع ہونے کی وجہ سے ان کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی۔ طلبہ کے مطابق پیپر میں شامل سوالات نصاب سے ہٹ کر تو نہیں تھے، تاہم ان کا انداز اور نوعیت ایسی تھی جس کے لیے انہیں تیار نہیں کیا گیا تھا۔
اساتذہ نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بورڈ ماڈل پیپر جاری کرتا ہے تو امتحانی پرچہ اسی پیٹرن کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ طلبہ کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ اچانک پیٹرن کی تبدیلی سے طلبہ کی محنت متاثر ہوتی ہے۔
طلبہ اور والدین نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ متاثرہ طلبہ کو ریلیف دیا جائے، تاکہ ان کے نتائج پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔ اس ضمن میں گریس مارکس یا دیگر ممکنہ اقدامات پر غور کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔
دوسری جانب تعلیمی حلقوں نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ کے لیے پیپر سیٹنگ کے نظام کو شفاف اور ماڈل پیپر سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ طلبہ کو بہتر اور منصفانہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اس بارے میں کنٹرولر امتحانات حامد سعید بھٹی کا کہنا ہے کہ پیپر معیار کے مطابق تھا۔ پیٹرن ہرگز نہیں بدلا گیا مراد سوالات اسی طرز اور اتنے ہی نمبروں کے تھے۔ امیدواران کو مشقی سوالات کے علاوہ درسی کتاب کے صفحات میں درج مواد کو بھی پڑھنا چاہیے۔ حکومت پنجاب کے فیصلے کے مطابق 25 فی صد پیپر تجزیاتی ہونا ضروری ہے۔




















