جامعہ زرعیہ ملتان : سائنٹیفک رائٹنگ سرٹیفکیٹ ٹریننگ کے اکیسویں بیچ کا آغاز

محمد نواز شریف زرعی یونیورسٹی میں سائنٹیفک رائٹنگ سرٹیفکیٹ ٹریننگ کے اکیسویں بیچ کا آغاز کر دیا گیا۔
سات روزہ تربیتی پروگرام میں 18 فیکلٹی ممبران پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو سائنسی تحقیق، سوال کرنے کی اہمیت، تحقیقی مقالہ نویسی اور سائنٹیفک رائٹنگ کے بنیادی اصولوں کی تربیت فراہم کریں گے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی ملتان، پروفیسر ڈاکٹر آصف علی (تمغہ امتیاز) نے کہا کہ ایک کامیاب سائنسدان بننے کے لیے سوال کرنے کا ہنر سیکھنا نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کا آغاز سوال سے ہوتا ہے اور وہی سوال نئی دریافتوں، نئے خیالات اور تحقیق کے نئے دروازے کھولتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے دور میں طلبہ کو صرف معلومات حاصل کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ درست اور مؤثر سوال کیسے کیا جاتا ہے۔
وائس چانسلر نے مزید کہا کہ سائنس کوئی بھی بات حتمی نہیں ہوتی بلکہ ہر نئی تحقیق مزید سوالات کو جنم دیتی ہے۔ اسی لیے نوجوانوں کو تجسس، تنقیدی سوچ اور تحقیق کے جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جدید دور میں سائنٹیفک رائٹنگ کی مہارت ہر محقق کے لیے اہمیت کے حامل ہے کیونکہ ایک اچھا تحقیقی کام اسی وقت مؤثر ثابت ہوتا ہے جب اسے درست انداز میں تحریر کیا جائے۔
سات روزہ ٹریننگ کے دوران شرکاء کو تحقیقی مقالہ لکھنے کے اہم اجزاء، ریسرچ پیپر کے مختلف حصوں، مسئلہ تحقیق، لٹریچر ریویو، طریقہ کار، نتائج، بحث اور حوالہ جات کے درست استعمال کے بارے میں تفصیلی آگاہی دی جائے گی۔
اس کے علاوہ سائنٹیفک رائٹنگ کے بنیادی اصول، مؤثر زبان کا استعمال، تحقیقی اخلاقیات، حوالہ نویسی اور بین الاقوامی جرائد میں مقالہ شائع کروانے کے طریقہ کار پر تربیت دے جائے گی۔
اس موقع پر ڈائریکٹر گریجویٹ اسٹڈیز ڈاکٹر راؤ اکرام، چیئرمین آؤٹ ریچ ڈاکٹر عثمان جمشید، فوکل پرسن ڈاکٹر عثمان علی اور ٹرینر مس ایمن بتول موجود تھیں۔




















