زکریا یونیورسٹی کی ایمپلائز یونین کا حلف لینے سے قبل ہی کٹوتیوں کا منصوبہ بے نقاب

زکریا یونیورسٹی کی ایمپلائز یونین نے حلف لینے سے قبل یونین فنڈز 20 روپے بڑھا کر 100روپے اور 4سو روپے ماہانہ عمرہ کٹوتی کی تجاویز تیار کرلیں ، ملازمین کا تحفظ کا اظہار، اپوزیشن نے لوٹ مار کا الزام لگا دیا۔
تفصیل کے مطابق بہاء الدین زکریا یونیورسٹی کی ایمپلائز یونین نے حلف برداری سے قبل ہی اہم مالی فیصلوں کی تیاری مکمل کرلی ہے، جس کے تحت یونین فنڈز میں اضافہ اور نئی کٹوتیوں کی تجاویز سامنے آگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق یونین قیادت نے فنڈز کو 20 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 100 روپے ماہانہ کرنے کی تجویز تیار کی ہے، جبکہ ملازمین کے لیے عمرہ ادائیگی کی مد میں 4 سو روپے ماہانہ کٹوتی کی تجاویز بھی تیار کی گئیں ہیں۔
یونین کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا بظاہر مقصد ملازمین کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنا اور فلاحی سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے، مجوزہ منصوبے کے تحت عمرہ پیکج کے لیے باقاعدہ فنڈ قائم کیا جائے گا، جس سے ملازمین کو رعایتی یا بلاسود سہولت فراہم کی جا سکے گی، یہ اقدامات مکمل طور پر ملازمین کے مفاد میں ہیں اور اس سے اجتماعی فلاح کو فروغ ملے گا۔
دوسری جانب یونیورسٹی کے ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے ان تجاویز کو تنقید کانشانہ بنایا ہے کہ اگر یونین فنڈز میں اضافہ شفاف طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس سے ملازمین کو حقیقی فائدہ پہنچ سکتا ہے، تاہم اس کے طریقہ کار کو واضح کرنا ضروری ہوگا کیونکہ ماضی میں ان عہدیداروں کی ایسی ہی عمرہ سکیم ناکامی کا شکار ہوگئی تھی اور خلاف قانون کٹوتی روک دی گئی تھی۔
اپوزیشن گروپ نے بھی ان ن فیصلوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یونین قیادت پر مالی بے ضابطگیوں اور ممکنہ “لوٹ مار” کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اپوزیشن نمائندگان کا کہنا ہے کہ حلف اٹھانے سے پہلے ہی فنڈز میں اضافہ اور نئی کٹوتیوں کی تجاویز دینا اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے کسی بھی قسم کی مالی پالیسی پر عملدرآمد سے قبل تمام ملازمین کو اعتماد میں لیا جائے اور مکمل آڈٹ و شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔
یونیورسٹی حلقوں میں اس معاملے پر بحث شدت اختیار کرگئی ہے اور امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ حلف برداری کے بعد یونین کی نئی قیادت کو ان تجاویز پر سخت سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔



















