ایچ ای سی اسناد کی تصدیق کو مکمل ڈیجیٹل کردیا گیا، فزیکل ویری فکیشن ختم، نیا نظام 30 جون سے لاگو ہوگا

تعلیمی اسناد کی تصدیق کے نظام میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے مکمل طور پر ڈیجیٹل ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد شہریوں کو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
ذرائع کے مطابق اس نئے نظام کا بنیادی مقصد تصدیقی عمل کو تیز، شفاف اور صارف دوست بنانا ہے۔ مجوزہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے تحت درخواست دہندگان اپنی ڈگریوں اور دیگر تعلیمی اسناد کی تصدیق کے لیے نہ صرف آن لائن درخواست جمع کرا سکیں گے بلکہ پورے عمل کی ٹریکنگ بھی گھر بیٹھے ممکن ہوگی۔ اس اقدام سے طویل قطاروں، کاغذی کارروائی اور دفاتر میں حاضری جیسے مسائل کا خاتمہ متوقع ہے۔
ایچ ای سی حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام میں فزیکل دستاویزات جمع کرانے کی شرط ختم کر دی جائے گی، جبکہ تصدیق کا مکمل عمل ڈیجیٹل طریقے سے انجام پائے گا۔ اس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ کرپشن اور جعلسازی کے امکانات میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔
مزید برآں اس منصوبے کے تحت جدید بلاک چین ٹیکنالوجی کو استعمال میں لایا جائے گا، جس کے ذریعے ڈگریوں کی تصدیق کو محفوظ، ناقابلِ ردوبدل اور عالمی معیار کے مطابق بنایا جائے گا۔ بلاک چین کی مدد سے ہر تصدیق شدہ دستاویز کا ریکارڈ ایک محفوظ ڈیجیٹل لیجر میں محفوظ ہوگا، جس تک مجاز ادارے باآسانی رسائی حاصل کر سکیں۔
ذرائع کے مطابق ایچ ای سی نے اس جدید نظام کی تیاری کے لیے سی ایم پاک لمیٹڈ کے ساتھ باضابطہ معاہدہ بھی کر لیا ہے، جو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یہ نظام 30 جون 2026 تک مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔
ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل اقدام سے نہ صرف پاکستان میں تعلیمی نظام کی ساکھ بہتر ہوگی بلکہ بیرون ملک پاکستانی طلباء اور پیشہ ور افراد کو بھی اپنی ڈگریوں کی تصدیق کے عمل میں آسانی میسر آئے گی،



















